ایران میں گزشتہ دو ہفتوں سے جاری پُرتشدد مظاہروں کا سلسلہ اچانک رک گیا ہے، جس کے بعد ملک کے مختلف حصوں میں حالات بتدریج معمول پر آنا شروع ہو گئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق انٹرنیشنل فون کالز بحال کر دی گئی ہیں، تاہم انٹرنیٹ سروس تاحال بند ہے، جس کے باعث معلومات کی ترسیل محدود ہے۔
امریکی انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ احتجاجی مظاہروں کے دوران 1850 مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں، تاہم ایرانی حکام نے ان اعداد و شمار کو مسترد کرتے ہوئے انہیں مبالغہ آمیز قرار دیا ہے۔
ایرانی انٹیلی جنس حکام کا کہنا ہے کہ مختلف علاقوں میں کارروائیوں کے دوران متعدد گھروں سے امریکی ساختہ دھماکہ خیز مواد اور اسلحہ برآمد کیا گیا ہے، جو ان کے بقول بیرونی مداخلت کے ثبوت ہیں۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے کسی قسم کی ملٹری کارروائی کی کوشش کی تو ایران مکمل طور پر تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے ملک میں مہنگائی کے خلاف جائز احتجاج کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا تھا اور مظاہرین سے ریلیف پر بات چیت جاری تھی، لیکن ایک منظم سازش کے تحت احتجاج کو پُرتشدد بنایا گیا تاکہ ٹرمپ کو مداخلت کا موقع دیا جا سکے اور ایران کے خلاف بیرونی فوجی طاقت کے لیے جواز پیدا ہو۔
عراقچی کے مطابق ان کے پاس بیرونِ ملک سے دہشت گرد عناصر کو ہدایات دینے کے شواہد موجود ہیں، اور ایران یہ نہیں سمجھتا کہ امریکا اس وقت منصفانہ مذاکرات کے لیے سنجیدہ ہے۔
جرمن چانسلر کے بیان پر شدید ردعمل دیتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ برلن انسانی حقوق پر لیکچر دینے کے لیے دنیا کا بدترین مقام ہے۔
انہوں نے کہا کہ جرمن قیادت
وینزویلا کے صدر کے مبینہ اغوا پر خاموش رہی،غزہ میں 70 ہزار شہادتوں پر بھی زبان نہیں کھولی،ایرانی وزیرخارجہ کےمطابق جرمنی کوانسانی حقوق کی بات کرنےپرشرم آنی چاہیے
