امریکی صدرڈونلڈٹرمپ نے ایران میں جاری عوامی مظاہروں کےحوالے سےسخت اور غیرمعمولی بیان دیتےہوئے ایرانی عوام کو براہِ راست مخاطب کیاہے۔صدرٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے محبِ وطن لوگ احتجاج جاری رکھیں، آزادی کی جدوجہد میں آپ اکیلے نہیں، مدد راستے میں ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری پیغام میں ایرانی عوام کو مزید حوصلہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے قومی اداروں پر کنٹرول حاصل کریں اور ظلم کے خلاف ڈٹ جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ معصوم مظاہرین کو قتل کر رہے ہیں، ان کے نام تاریخ میں محفوظ ہو چکے ہیں اور انہیں اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔
امریکی صدر نے واضح کیا کہ ایرانی مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال پر وہ سخت ناراض ہیں، اسی لیے انہوں نے ایرانی حکام کے ساتھ ہونے والی تمام ملاقاتیں اور رابطے تاحکمِ ثانی منسوخ کر دیے ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق یہ فیصلے اس وقت تک برقرار رہیں گے جب تک ایران میں مظاہرین کا قتل عام مکمل طور پر بند نہیں ہو جاتا۔
صدر ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران میں دو ہفتوں سے زائد عرصے تک جاری رہنے والے احتجاجی مظاہروں میں سینکڑوں افراد کے مارے جانے کی اطلاعات سامنے آ چکی ہیں، جبکہ انٹرنیٹ اور مواصلاتی پابندیوں کے باعث دنیا بھر میں تشویش پائی جا رہی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق صدر ٹرمپ کا یہ بیان نہ صرف ایرانی حکومت کے لیے ایک سخت پیغام ہے بلکہ خطے میں ایک نئے سفارتی اور سیاسی دباؤ کی شروعات بھی ہو سکتی ہے۔ ٹرمپ کا ’’مدد پہنچ رہی ہے‘‘ کہنا عالمی سطح پر قیاس آرائیوں کو جنم دے رہا ہے کہ آیا امریکہ سفارتی، سیاسی یا کسی اور سطح پر عملی اقدامات کرنے جا رہا ہے۔
