امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تازہ دھمکیوں پر ایران کی اعلیٰ قیادت نے شدید ردعمل دیتے ہوئے امریکا اور اسرائیل پر سنگین الزامات عائد کر دیے ہیں۔ ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ اور سینئر رہنما علی لاریجانی نے کہا ہے کہ ایرانی عوام کے اصل قاتل کوئی اور نہیں بلکہ خود امریکا اور اسرائیل کی قیادت ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری بیان میں علی لاریجانی نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ’’ایرانی عوام کے اصل قاتلوں کے نام ڈونلڈ ٹرمپ اور بنیامین نیتن یاہو ہیں‘‘۔ انہوں نے انسانی حقوق کا پرچم اٹھانے والے ممالک کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہی ممالک دنیا میں انسانی حقوق کی سب سے بڑی خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں۔
علی لاریجانی کا کہنا تھا کہ امریکا اور اسرائیل برسوں سے ایران کے خلاف اقتصادی پابندیاں، سیاسی دباؤ اور عدم استحکام مسلط کرتے آ رہے ہیں، جس کا براہِ راست نقصان عام ایرانی شہریوں کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہ پالیسیاں دانستہ طور پر عوامی مشکلات بڑھانے اور داخلی انتشار پیدا کرنے کے لیے اپنائی گئیں۔
ایرانی رہنما کے اس بیان کو امریکا کی جانب سے ممکنہ فوجی کارروائی، سخت پابندیوں اور کھلی دھمکیوں کے تناظر میں ایک سخت سفارتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق علی لاریجانی کا یہ ردعمل نہ صرف امریکی قیادت کو للکار ہے بلکہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی سنگینی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان بیانات کی یہ جنگ کسی بھی وقت عملی تصادم میں تبدیل ہو سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی غیر معمولی دباؤ اور عدم استحکام کا شکار ہے۔
