ماسکو میں پاکستانی سفیر فیصل نیاز ترمذی نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو اپنی سفارتی اسناد پیش کر دیں، جس کے بعد پاک روس تعلقات کے ایک نئے باب کا باضابطہ آغاز ہو گیا۔ اس اہم سفارتی موقع پر روسی سفارتخانے کی جانب سے صدر ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے پاکستان سے متعلق گفتگو بھی جاری کی گئی۔
صدر ولادیمیر پیوٹن نے اس موقع پر پاکستان کے ساتھ قریبی اور تعمیری تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ روس اور پاکستان کے تعلقات حقیقی معنوں میں باہمی مفاد پر مبنی ہیں اور دونوں ممالک مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دے رہے ہیں۔
روسی صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کا مکمل اور فعال رکن ہے، جبکہ شنگھائی تعاون تنظیم خطے کی سب سے بڑی اور مؤثر علاقائی تنظیم کے طور پر ابھر چکی ہے، جو علاقائی استحکام، سلامتی اور اقتصادی تعاون میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی شمولیت تنظیم کو مزید مضبوط بناتی ہے۔
اس موقع پر پاکستانی سفیر فیصل نیاز ترمذی نے کہا کہ پاکستان اور روس کے درمیان توانائی، تجارت، دفاع، تعلیم اور ثقافتی شعبوں میں تعاون مسلسل بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ روس میں مقیم پاکستانی برادری کے ساتھ روابط کو مزید مضبوط کیا جائے گا اور ان کے مسائل کے حل کو ترجیح دی جائے گی۔
فیصل نیاز ترمذی نے اکتوبر 2025 میں روس میں پاکستان کے سفیر کی حیثیت سے اپنی سفارتی ذمہ داریاں سنبھالی تھیں۔ ان کی تعیناتی کو پاک روس تعلقات میں نئی سفارتی حرکیات اور دوطرفہ روابط کے فروغ کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق روس اور پاکستان کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون نہ صرف دوطرفہ تعلقات کے لیے اہم ہے بلکہ یہ خطے میں طاقت کے توازن، اقتصادی روابط اور علاقائی سلامتی کے لیے بھی مثبت اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
