تہران :ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ملک میں ہونے والے حالیہ پرتشدد مظاہروں کے دوران جانی و مالی نقصانات، اموات اور ایرانی عوام کے خلاف لگائے گئے الزامات کی براہِ راست ذمہ داری امریکی صدر پر عائد کر دی ہے۔
اپنے سخت لہجے میں جاری بیان میں آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ حالیہ ایران مخالف فسادات میں امریکی صدر کی ذاتی اور کھلی مداخلت واضح طور پر دیکھی گئی، جس نے صورتحال کو مزید خراب کیا، عدم استحکام کو ہوا دی اور ایرانی عوام کو شدید نقصان پہنچایا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں کے باعث ایران میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے۔
سپریم لیڈر نے واضح کیا کہ ایران کسی صورت ملک کو جنگ کی طرف نہیں دھکیلنا چاہتا، تاہم اندرونی اور بیرونی جرائم پیشہ عناصر، تخریب کاروں اور دہشتگردوں کو کسی حال میں معاف نہیں کیا جائے گا۔ ان کے مطابق قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
واضح رہے کہ ایران میں حالیہ ہفتوں کے دوران ہونے والے پرتشدد احتجاجی مظاہروں کے دوران یہ تاثر پیدا ہو گیا تھا کہ حکومت کسی بھی وقت کمزور پڑ سکتی ہے، تاہم اسی دوران حکومت کے حامی لاکھوں افراد بھی سڑکوں پر نکل آئے اور ریاستی نظام سے بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا، جس سے طاقت کا توازن برقرار رہا۔
دوسری جانب ایران نے جی سیون ممالک کے حالیہ بیان کو بھی سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے ایران کے داخلی معاملات میں کھلی اور ناقابل قبول مداخلت قرار دیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق ملک میں تشدد اور دہشتگردی کے واقعات میں اسرائیلی کردار کے ناقابلِ تردید شواہد موجود ہیں۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری ردِعمل میں کہا گیا ہے کہ ایران میں ہونے والے پُرامن مظاہروں کو صہیونی حمایت یافتہ دہشتگرد عناصر نے دانستہ طور پر پرتشدد شکل دی۔ بیان کے مطابق 8 سے 10 جنوری کے دوران مظاہرین اور سیکیورٹی اہلکاروں کو منظم حملوں کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ امریکی اور اسرائیلی حکام کے بیانات تشدد پر اکسانے کے واضح ثبوت فراہم کرتے ہیں۔
وزارتِ خارجہ نے اس مؤقف کو بھی دہرایا کہ ایران آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے پُرامن احتجاج کے حق کا احترام کرتا ہے اور شہری آزادیوں کا پابند ہے، تاہم ریاست کی اولین ذمہ داری شہریوں کے تحفظ، امن و امان کے قیام اور بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کے خلاف قومی سلامتی کا دفاع ہے، جس میں کوئی کوتاہی نہیں برتی جائے گی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایرانی قیادت کے یہ سخت بیانات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ تہران اندرونی استحکام برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ بیرونی دباؤ اور عالمی بیانیے کا دوٹوک جواب دینے کی حکمتِ عملی اختیار کر چکا ہے۔
