اسرائیل میں تعینات رہنے والے سابق امریکی سفیر ڈان شپیرو نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ ہفتوں میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو قتل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
اسرائیلی خبر رساں ادارے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ڈان شپیرو، جو سابق صدر بارک اوبامہ کے دور میں اسرائیل میں امریکی سفیر رہے، نے کہا کہ ایران کو اس وقت نئی قیادت کی ضرورت ہے کیونکہ آیت اللہ خامنہ ای 86 برس کے ہو چکے ہیں اور ایک بیمار شخص ہیں۔
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایرانی سپریم لیڈر نے ایران میں جاری تشدد، مظاہروں اور ہلاکتوں کا ذمہ دار امریکی صدر کو قرار دیا ہے۔
سابق امریکی سفیر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں مزید کہا کہ جلد امریکا کا ایک بڑا بحری بیڑا مشرق وسطیٰ میں تعینات ہوگا، جو نہ صرف ایران پر ممکنہ حملے کو آسان بنائے گا بلکہ کسی بھی ایرانی ردعمل کی صورت میں دفاعی تیاریوں میں بھی مدد فراہم کرے گا۔
ڈان شپیرو کا کہنا تھا کہ امریکا ایرانی فورسز پر مزید حملے بھی کر سکتا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی کے مزید بڑھنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں
