عالمی معیشت، سیاحت اور ترقیاتی شراکت داری کے تناظر میں سعودی عرب نے حالیہ برسوں میں جس تیزی سے اپنا مقام مستحکم کیا ہے، وہ دنیا بھر کے پالیسی سازوں اور سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ اسی پس منظر میں عالمی اقتصادی فورم (ورلڈ اکنامک فورم) میں مملکت کی فعال شرکت کو محض ایک سفارتی سرگرمی کے بجائے دہائیوں پر محیط ایک گہری تزویراتی سوچ کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے۔
سعودی عرب کے وزیر سیاحت احمد الخطیب کے مطابق، ڈیووس میں مملکت کی موجودگی اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ سعودی عرب نہ صرف جی 20 ممالک میں ایک مضبوط معیشت کے طور پر ابھر چکا ہے بلکہ وژن 2030 کے تحت ایسی وسیع اور ہمہ جہت اصلاحات سے گزر رہا ہے جو عالمی معیار پر پورا اترتی ہیں۔
ڈیووس میں العربیہ بزنس کو دیے گئے ایک تفصیلی انٹرویو میں احمد الخطیب نے وضاحت کی کہ سعودی عرب عالمی اقتصادی فورم کو محض ایک سالانہ اجتماع نہیں سمجھتا بلکہ اسے ایک مستقل شراکت دار کے طور پر دیکھتا ہے۔ ان کے مطابق مملکت فورم کے مرکزی اجلاسوں کے ساتھ ساتھ متعدد دو طرفہ ملاقاتوں میں بھی بھرپور کردار ادا کر رہی ہے، جن کا مقصد سرمایہ کاری، سیاحت، بنیادی ڈھانچے اور انسانی ترقی جیسے شعبوں میں عالمی تعاون کو فروغ دینا ہے۔
وزیر سیاحت نے اس موقع پر اس امر کی یاد دہانی کرائی کہ ورلڈ اکنامک فورم اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات صرف ڈیووس تک محدود نہیں رہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ برس ریاض میں فورم کا ایک خصوصی موسم بہار اجلاس منعقد کیا گیا تھا، جس میں عالمی ماہرین، پالیسی سازوں اور کاروباری رہنماؤں نے شرکت کی۔ اب اسی تسلسل میں اپریل کے مہینے میں جدہ میں ایک نیا موسم بہار اجلاس منعقد کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں، جو اس شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کا ثبوت ہے۔
احمد الخطیب کے مطابق، سعودی وزارت سیاحت نے گزشتہ سال ورلڈ اکنامک فورم کے ساتھ ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے، جس کے بعد فورم کے عالمی تجربات، تحقیق اور پالیسی فریم ورک سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مملکت میں سیاحت اور سفر کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا عمل تیز کر دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تعاون وقتی نوعیت کا نہیں بلکہ ایک طویل المدتی اور اسٹریٹجک تعلق ہے، جس کے نتائج آنے والے برسوں میں مزید نمایاں ہوں گے۔
وزیر سیاحت نے گفتگو کے دوران اس بات پر زور دیا کہ وژن 2030 اب محض ایک منصوبہ یا دستاویز نہیں رہا بلکہ زمین پر اس کے اثرات واضح طور پر نظر آ رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بحیرہ احمر کے ساحلی منصوبے، قدیہ کے تفریحی و ثقافتی مراکز اور تاریخی درعیہ کی بحالی جیسے بڑے منصوبے مرحلہ وار مکمل ہو رہے ہیں اور عوام کے لیے کھولے جا رہے ہیں۔ یہ منصوبے نہ صرف سیاحت کو فروغ دے رہے ہیں بلکہ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور معیشت کو متنوع بنانے میں بھی کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔
احمد الخطیب نے ہوابازی اور بنیادی ڈھانچے کے شعبے میں ہونے والی پیش رفت کو سیاحت کی کامیابی کا ایک اہم ستون قرار دیا۔ ان کے مطابق مملکت میں ہوائی اڈوں کی توسیع، نجی شعبے کی شمولیت اور نئی ایئرلائنز کے قیام سے سعودی عرب عالمی سفری نقشے پر ایک مرکزی مرکز بنتا جا رہا ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے “ریاض ایئر” جیسے منصوبوں کا ذکر کیا، جو عالمی معیار کی فضائی خدمات فراہم کرنے کے لیے قائم کیے جا رہے ہیں۔
وزیر سیاحت نے واضح کیا کہ سیاحت کے شعبے میں جو تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، وہ اپنی نوعیت میں جامع، غیر معمولی اور بے مثال ہیں۔ ان کے مطابق ترقی کی شرح کے اعتبار سے سعودی عرب سیاحت کے میدان میں جی 20 ممالک میں سب سے تیزی سے آگے بڑھنے والی معیشت بن چکا ہے، جو وژن 2030 کی درست سمت اور مؤثر نفاذ کا عملی ثبوت ہے۔
گفتگو کے دوران احمد الخطیب نے پہلی مرتبہ سال 2025 کے لیے سیاحتی شعبے کی تفصیلی کارکردگی کے اعداد و شمار بھی منظر عام پر لائے۔ انہوں نے بتایا کہ مملکت نے اپنی تاریخ میں پہلی بار سیاحت کے شعبے میں 300 ارب ریال سے زائد کے اخراجات ریکارڈ کیے ہیں، جبکہ اس سے ایک سال قبل یہ رقم تقریباً 282 ارب ریال تھی۔ ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیاحت نہ صرف ایک ابھرتا ہوا شعبہ ہے بلکہ قومی معیشت کا ایک مضبوط ستون بنتا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کی مجموعی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق سیاحوں کی تعداد 11 کروڑ 60 لاکھ سے بڑھ کر 12 کروڑ 20 لاکھ تک پہنچ گئی ہے، جن میں تقریباً 3 کروڑ غیر ملکی سیاح شامل ہیں۔ یہ پیش رفت سعودی عرب کو عالمی سطح پر سیاحت کے دس بڑے ممالک میں شامل کرنے کا باعث بنی ہے، جو ایک تاریخی سنگِ میل ہے۔
احمد الخطیب کا کہنا تھا کہ سیاحت کی ترقی کو ہوابازی اور بنیادی ڈھانچے سے الگ نہیں دیکھا جا سکتا۔ انہوں نے عالمی ایئرلائنز کے ذریعے مملکت کے ساتھ فضائی رابطوں میں اضافے، نئے روٹس کے اجرا اور بڑے ہوائی اڈوں کے منصوبوں کی طرف اشارہ کیا۔ ان میں شاہ سلمان انٹرنیشنل ایئرپورٹ جیسے میگا منصوبے شامل ہیں، جو مستقبل میں ایکسپو 2030 اور 2034 کے فٹبال ورلڈ کپ جیسے عالمی ایونٹس کی میزبانی میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔
وزیر سیاحت نے ڈیووس سے ایک اور اہم اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ جلد ہی “کوالٹی آف لائف انڈیکس” متعارف کرایا جائے گا۔ ان کے مطابق یہ ایک امریکی ادارے کے تعاون سے تیار کیا گیا پہلا عالمی اشاریہ ہوگا، جس کا مقصد دنیا بھر کے شہروں میں معیارِ زندگی کی پیمائش کرنا ہے۔ یہ انڈیکس بنیادی ڈھانچے، عوامی خدمات، سہولیات اور مجموعی معیارِ زندگی جیسے عوامل کو مدنظر رکھے گا اور عالمی سطح پر شہروں کے درمیان مثبت مقابلے کو فروغ دے گا۔
آخر میں احمد الخطیب نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سعودی عرب آنے والے برسوں میں سیاحت، معیشت اور انسانی ترقی کے شعبوں میں اپنی کامیابیوں کو مزید وسعت دے گا۔ ان کے مطابق وژن 2030 کے تحت کیے جانے والے اقدامات نہ صرف مملکت کی معیشت کو مضبوط بنا رہے ہیں بلکہ سعودی عرب کو ایک جدید، کھلی اور عالمی معیار کی سیاحتی منزل کے طور پر بھی متعارف کرا رہے ہیں۔
