امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی برائے مشرق وسطیٰ اسٹیو وٹکوف نے یوکرین تنازع کے حوالے سے اہم اور حوصلہ افزا بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس دیرینہ بحران پر نمایاں پیشرفت ہو چکی ہے اور اب معاملات اپنے اختتامی مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔
اپنے بیان میں اسٹیو وٹکوف نے یوکرین کی مذاکراتی ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ یوکرینی ٹیم نہایت پیشہ ور، سنجیدہ اور مؤثر انداز میں مذاکرات کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر دونوں فریقین واقعی یوکرین تنازع کو حل کرنے کے خواہاں ہیں تو امریکا اس مقصد کے حصول کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور امن کا راستہ نکالا جا سکتا ہے۔
امریکی ایلچی نے یوکرین کی اقتصادی بحالی کے حوالے سے بھی اہم تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین کو ٹیرف فری زون قرار دینا اس کی معیشت کے لیے ایک بڑا اور فیصلہ کن قدم ثابت ہو سکتا ہے، جو سرمایہ کاری، تجارت اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گا۔
اسٹیو وٹکوف نے مزید انکشاف کیا کہ وہ یوکرین تنازع پر براہِ راست بات چیت کے لیے آج رات روس روانہ ہو رہے ہیں، جہاں اعلیٰ سطحی مذاکرات کے ذریعے بحران کے پائیدار حل کی کوشش کی جائے گی۔
ان کے مطابق موجودہ سفارتی پیشرفت اس بات کی غماز ہے کہ اگر تمام فریق خلوصِ نیت سے آگے بڑھیں تو یوکرین تنازع کا سیاسی اور پرامن حل اب زیادہ دور نہیں۔
