ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ یورپی ممالک آج اپنے ماضی کے موقف کا خمیازہ بھگت رہے ہیں اور جو رویہ انہوں نے ایران کے جوہری معاہدے کے معاملے پر اپنایا تھا، وہی اب خود ان کے خلاف پلٹ کر سامنے آ رہا ہے۔ ان کے مطابق یورپ نے ماضی میں امریکا کی جانب سے جوہری معاہدے (JCPOA) کی خلاف ورزی کی حمایت کی اور اب اسی طرزِ عمل کا سامنا اس وقت کر رہا ہے جب امریکی انتظامیہ یورپی یونین کے ساتھ کیے گئے تجارتی معاہدوں کو نظرانداز کر رہی ہے۔
عباس عراقچی نے یہ بات گزشتہ روز ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں کہی۔ ان کا اشارہ 2025 کے موسمِ گرما میں اسکاٹ لینڈ میں کسٹمز ڈیوٹی (ٹیرف) سے متعلق طے پانے والے امریکا–یورپ تجارتی معاہدے کی طرف تھا، جس پر دستخط کے محض چھ ماہ بعد ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی ممالک پر نئی ڈیوٹیاں عائد کرنے کی دھمکی دی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لین کے حالیہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب امریکا صرف چھ ماہ قبل یورپی یونین کے ساتھ کیے گئے معاہدے کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اچانک ارسولا وان ڈیر لین کھڑی ہو کر یہ اصرار کرتی ہیں کہ ‘سیاست ہو یا کاروبار، معاہدہ تو معاہدہ ہوتا ہے’ اور یہ کہ ‘جب دونوں فریق ہاتھ ملائیں تو اس کا کوئی مطلب ہونا چاہیے’۔
عراقچی نے کہا کہ آج یورپ جس تعطل اور سفارتی دباؤ کا شکار ہے، وہ لفظی معنوں میں ‘پلٹ کر وار کرنے’ (Blowback) کی واضح مثال ہے۔ ان کے مطابق یورپی ممالک نے ماضی میں اصولی موقف اختیار کرنے کے بجائے وقتی مفادات کو ترجیح دی، جس کے نتائج اب سامنے آ رہے ہیں۔
انہوں نے یورپی ٹرائیکا (فرانس، جرمنی اور برطانیہ) پر بھی سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں انہوں نے امریکا کی اندھی تقلید کی، جب واشنگٹن نے یک طرفہ طور پر ایرانی جوہری معاہدے سے دستبرداری اختیار کی تھی۔
عباس عراقچی کے مطابق اگر یورپی ممالک نے اس وقت مستقبل کے نتائج کے بارے میں سنجیدگی سے سوچا ہوتا تو آج انہیں اس صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ان تمام واقعات سے ایک واضح اور بنیادی سبق حاصل ہوتا ہے، اور وہ یہ ہے کہ یا تو تمام معاہدے واجب العمل ہوتے ہیں، یا پھر کسی معاہدے کی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لین نے گزشتہ روز ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم سے خطاب کرتے ہوئے معاہدوں کے احترام پر زور دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ چاہے سیاست ہو یا کاروبار، معاہدہ معاہدہ ہوتا ہے، اور جب دو فریق مصافحہ کرتے ہیں تو اس کا وزن اور معنی ہونا چاہیے۔
حالیہ کشیدگی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جولائی 2025 میں امریکا اور یورپی یونین کے درمیان ہونے والے تجارتی معاہدے پر دستخط کے صرف چھ ماہ بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ کے مسئلے پر چھ یورپی ممالک کے موقف کی بنیاد پر ان پر نئی کسٹمز ڈیوٹیاں عائد کرنے کی دھمکی دی ہے۔ گرین لینڈ وہ خطہ ہے جسے حاصل کرنے کے لیے ٹرمپ طویل عرصے سے کوششیں کر رہے ہیں۔
یورپی ممالک نے اس امریکی اقدام کو معاہدے کو سبوتاژ کرنے کے مترادف قرار دیا ہے، جبکہ مبصرین کے مطابق یہ پیش رفت امریکا–یورپ تعلقات میں ایک نئے تناؤ اور عالمی سفارت کاری میں معاہدوں کی ساکھ پر سوالیہ نشان بن چکی ہے۔
