مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر خطرناک سطح کو چھونے لگی ہے، جہاں اسرائیلی فوجی ریڈیو کے اندازوں کے مطابق رواں ہفتے خطے میں امریکی فوجی موجودگی ریکارڈ بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ یہ اضافہ اُس سطح سے بھی زیادہ بتایا جا رہا ہے جو گزشتہ جون میں ایران کے خلاف ہونے والی امریکی کارروائی کے دوران دیکھنے میں آیا تھا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے سربراہ بریڈ کوپر تل ابیب کے دورے پر موجود ہیں، جسے دفاعی مبصرین غیر معمولی اہمیت دے رہے ہیں۔
اسرائیلی براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے مطابق اسرائیلی دفاعی ادارے امریکی افواج کے اس غیر معمولی پھیلاؤ کو دو زاویوں سے دیکھ رہے ہیں۔ ایک رائے یہ ہے کہ یہ ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے ممکنہ بڑے عسکری حملے کی تیاری کا حصہ ہو سکتا ہے، جبکہ دوسرا مؤقف یہ ہے کہ یہ طاقت کا مظاہرہ دراصل تہران پر دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی ہے تاکہ اسے سخت شرائط پر نئے معاہدے کی طرف لایا جا سکے۔ تاہم ایک سکیورٹی ذریعے کا کہنا ہے کہ امریکی فوج کے ساتھ مسلسل رابطے کے باوجود ایران کے معاملے پر فی الحال کوئی آپریشنل ہم آہنگی موجود نہیں اور حتمی فیصلہ بدستور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اختیار میں ہے۔
دوسری جانب ایران نے بھی سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ایک ایرانی عہدے دار نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ایرانی افواج ہائی الرٹ پر ہیں اور کسی بھی بدترین صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران پر کسی بھی حملے کو محدود کارروائی نہیں بلکہ ہمہ گیر جنگ سمجھا جائے گا، جس کا جواب بھرپور عسکری طاقت سے دیا جائے گا۔
علاقائی سطح پر بھی تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔ ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل ایران پر حملے کا موقع تلاش کر رہا ہے، اور ایسی کسی بھی کارروائی سے پورا خطہ مزید عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ حالات پہلے ہی نازک ہیں اور کسی بھی فوجی مہم جوئی کے سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کا فیصلہ صرف صدر ٹرمپ کریں گے۔ نائب ترجمان مینیون ہیوسٹن نے العربیہ کو بتایا کہ موجودہ امریکی حکمت عملی ایرانی عوام کی حمایت پر مرکوز ہے۔ ان کے مطابق ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر 25 فیصد ڈیوٹی عائد کی گئی ہے جبکہ ان ایرانی حکام پر پابندیاں لگائی گئی ہیں جو عوامی احتجاج کو کچلنے میں ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ایران میں انسانی حقوق کی صورتحال اور عوامی مظاہروں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
ادھر اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر مائیک ہکابی نے بھی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے اشارہ دیا ہے کہ اگر ایران کی جانب سے مظاہرین کو سزائے موت دینے کا سلسلہ بند نہ کیا گیا تو امریکہ فوجی کارروائی پر غور کر سکتا ہے۔ ان بیانات اور عسکری نقل و حرکت نے مجموعی طور پر مشرقِ وسطیٰ کو ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے، جہاں سفارتی کوششوں کی ناکامی کسی بھی وقت بڑے تصادم کا پیش خیمہ بن سکتی ہے
