اسرائیلی فوج نے اتوار کے روز اعلان کیا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ سے منسلک اسلحہ سازی کے ایک مقام کو فضائی حملے میں نشانہ بنایا ہے۔ اسرائیلی فوج کی ترجمان کپتان ایلا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا کہ حملہ ایسے مقام پر کیا گیا جہاں حزب اللہ کے عناصر جنگی سازوسامان تیار کرنے میں مصروف تھے۔
ترجمان کے مطابق جنوبی لبنان کے علاقے بیر السلاسل میں ایک عمارت کو بھی نشانہ بنایا گیا، جہاں مبینہ طور پر حزب اللہ کے ارکان سرگرم عمل تھے۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے اس کارروائی کی ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے۔ مزید بتایا گیا کہ بقاع کے علاقے میں ایک اور فضائی حملے کے دوران حزب اللہ کے عسکری انفراسٹرکچر کو ہدف بنایا گیا۔
علاقائی ذرائع اور عرب میڈیا کے نمائندوں کے مطابق اسرائیلی فضائی حملوں کا دائرہ جنوبی اور مشرقی لبنان تک پھیل گیا۔ مشرقی لبنان کے بقاع میں جرود جنتا کے علاقے کو نشانہ بنایا گیا جبکہ مشرقی پہاڑی سلسلے میں واقع النبی شیت بھی حملوں کی زد میں آیا۔ اسی طرح بیر السلاسل اور خربہ سلم کے درمیانی علاقے میں دو شدید حملے کیے گئے۔
لبنان کی قومی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے دو مرحلوں میں کفر دونین اور بیر السلاسل کے اطراف بمباری کی، جس کے فوراً بعد ایمبولینسیں جائے وقوعہ کی جانب روانہ ہو گئیں۔ مزید برآں جنوبی لبنان میں معروب اور باریش کے درمیان گیس کمپنی کے قریب ایک ڈرون حملے میں ایک گاڑی کو بھی نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات ہیں۔
پس منظر
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل اور لبنان کے درمیان نومبر 2024ء سے جنگ بندی کا معاہدہ نافذ ہے۔ اس کے باوجود اسرائیل جنوبی لبنان میں وقفے وقفے سے حملے جاری رکھے ہوئے ہے اور حزب اللہ پر اپنی عسکری صلاحیتیں دوبارہ بحال کرنے کا الزام عائد کرتا ہے۔
اسرائیل تاحال ان پانچ پہاڑی مقامات سے انخلا پر آمادہ نہیں جہاں وہ جنگ بندی معاہدے کے باوجود موجود ہے۔ دوسری جانب لبنانی حکومت نے اسلحہ کو صرف ریاستی سکیورٹی اداروں تک محدود رکھنے کا منصوبہ منظور کر رکھا ہے۔ اس منصوبے کے تحت لبنانی فوج نے دریائے لیطانی کے جنوب میں کئی علاقوں میں تعیناتی مکمل کی ہے، تاہم اسرائیلی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات ناکافی ہیں اور حزب اللہ بدستور اپنی عسکری قوت کو بحال کرنے میں مصروف ہے۔
خطے میں جاری یہ کشیدگی جنگ بندی کے مستقبل اور سرحدی سلامتی کے حوالے سے نئے سوالات کو جنم دے رہی ہے
