سعودی عرب نے ایران کو ایک اہم اور واضح یقین دہانی کراتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی فضائی حدود یا سرزمین کو ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور خطے میں عدم استحکام کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس دوران دونوں رہنماؤں نے خطے کی تازہ صورتحال، سلامتی کے چیلنجز اور باہمی تعلقات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد نے ایرانی صدر کو یقین دلایا کہ سعودی عرب اپنی فضائی حدود یا سرزمین کو ایران کے خلاف کسی بھی مقصد کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
ٹیلیفونک گفتگو میں صدر مسعود پزشکیان نے سعودی ولی عہد کو آگاہ کیا کہ ایران کے خلاف امریکا کی دھمکیاں پورے خطے میں عدم استحکام کو جنم دے سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تہران بین الاقوامی قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے جنگ کو روکنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے کیے جانے والے ہر اقدام کا خیرمقدم کرتا ہے۔
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے اس موقع پر ایران کی خودمختاری کے احترام کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ریاض تمام علاقائی تنازعات کو بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے پر یقین رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت یا کشیدگی کو مسترد کرتا ہے۔
محمد بن سلمان نے مزید کہا کہ سعودی عرب خطے میں امن و استحکام کے لیے ایران کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے اور علاقائی سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور سعودی عرب کے درمیان یہ رابطہ نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کا اشارہ ہے بلکہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کی ایک اہم سفارتی کوشش بھی تصور کیا جا رہا ہے۔
