امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بارپھر واضح بیان دیا ہے کہ فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کو اپنے ہتھیار چھوڑنے ہوں گے اور ان کے بقول وہ غزہ میں ہتھیار ڈال دے گی تاکہ امن عمل آگے بڑھ سکے۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ حماس نے یروشلم اور دیگر مذاکراتی مراحل میں اپنا کردار ادا کیا ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ وہ اپنے اسلحے کو ترک کرے؛ اگر ایسا نہ ہوا تو انہیں غیر مسلح کرنے کے اقدامات کیے جائیں گے۔
ٹرمپ کے بقول ہم چاہتے ہیں کہ حماس اپنے ہتھیار ڈال دے اور وہ ایسا ہی کرے گی، اور اگر وہ ایسا نہیں کرتی تو اقدامات کیے جائیں گے جو انہیں بے قوت کر دیں گے، جیسا کہ انہوں نے سماجی میڈیا اور پریس بیانات میں بھی بیان کیا ہے۔
ادھر امریکی ایلچی سٹیو وِٹکوف نے ایک حکومتی اجلاس میں صحافیوں کو بتایا کہ غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی منصوبے کا دوسرا مرحلہ شروع کر دیا گیا ہے، جس کا مقصد تحریک حماس کو بے ہتھیار بنانا، امن بحال کرنا اور علاقہ کی بحالی کے عمل کو آگے بڑھانا ہے۔ جنوبی غزہ کے علاقوں بشمول رفح میں تعمیرِ نو اور بین الاقوامی امن فوج کی تعیناتی بھی اس مرحلے کا حصہ ہیں جو تب تک ہوگا جب تک اسرائیلی فوج بتدریج پیچھے نہیں ہٹتی۔
امریکہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو مطلع کیا ہے کہ غزہ کی غیر مسلح کاری (demilitarization) ایک معاہدہ شدہ عمل کے ذریعے ہوگا جس میں عالمی فنڈنگ سے چلنے والا اسلحے کی دوبارہ خریداری (buy-back) پروگرام شامل ہے، جسے بین الاقوامی نگرانی کے تحت نافذ کیا جائے گا۔ اس پروگرام کا مقصد حماس کے پاس موجود ہزاروں راکٹ، مشین گنز اور دیگر جنگی ساز و سامان کو مستقل طور پر غیر فعال کرنا ہے اور بعد ازاں ان جنگجوؤں کو سماجی اور معاشی طور پر ضم کرنا ہے۔
امریکی ایلچی مائیک والٹز نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ غزہ کی حکمرانی میں براہِ راست یا بالواسطہ طور پر حماس کا کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے، اور بین الاقوامی مبصرین غیر مسلح کاری کے عمل کی نگرانی کریں گے۔ اس میں ہتھیاروں کو مستقل طور پر غیر فعال بنانا اور ان کے دوبارہ استعمال کو روکنا شامل ہے، اور یہ عمل ایک متفقہ دستبرداری اور عالمی فنڈنگ سے چلنے والے ری انٹیگریشن پروگرام کے ذریعے ہوگا۔
دوسرے مرحلے کے آغاز کے ساتھ، امریکہ اور ثالث ممالک کو اب حماس کے ہاتھوں ہتھیار چھوڑنے کے پیچیدہ معاملے سے نمٹنا ہوگا، جسے تحریک بار بار مسترد کر چکی ہے، اور یہ عمل صرف اس وقت کامیاب ہو سکتا ہے جب بین الاقوامی امن فوج، مقامی امن کمیونٹیز، اور عالمی مالیاتی تعاون ایک ساتھ کام کریں۔
یہ امریکی منصوبہ ٹرمپ کے 20 نکاتی غزہ امن منصوبے کا حصہ ہے، جس میں نہ صرف حماس کے ہتھیار ڈالنے اور غیر مسلح کرنے کی حکمت عملی ہے، بلکہ غزہ کی تعمیرِ نو، بین الاقوامی امن فوج کی تعیناتی، اور مستقل امن کے لیے معاشی و سماجی اصلاحات بھی شامل ہیں۔
یہ اقدامات اس وقت سامنے آئے ہیں جب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ٹرمپ کی قیادت میں بنائے گئے “Board of Peace” پروگرام کو 2027 تک غزہ کے انتظام اور امن کے قیام کے لیے با اختیار میکانزم کے طور پر تسلیم کیا ہے، جس میں 26 ممالک شامل ہیں اور جو اس خطے کی صورت حال کو مستقل طور پر تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
