پاکستان اور ترکیے کے درمیان دیرینہ دفاعی تعلقات کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کرتے ہوئے ترکیے کے چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلجوق بائرکتار اولو نے پاکستان کے ساتھ فوجی تربیت، مشترکہ مشقوں اور صلاحیت بڑھانے کے شعبوں میں تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ترک فوج کے سربراہ نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی کا دورہ کیا، جہاں آمد پر انہیں پاک فوج کے چاق و چوبند دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے فوجی تعلقات کی گرمجوشی نمایاں نظر آئی۔
دورے کے دوران ترکیے کے چیف آف جنرل اسٹاف نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے اہم ملاقات کی۔ ملاقات میں دفاعی تعاون، عسکری امور، علاقائی و عالمی سیکیورٹی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں عسکری قیادت نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بدلتی ہوئی عالمی صورتحال میں پاک–ترکی دفاعی شراکت داری مزید اہمیت اختیار کر چکی ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق گفتگو میں دونوں ممالک کے درمیان فوجی تعاون کو مزید مضبوط بنانے، قریبی رابطوں میں اضافے اور پیشہ ورانہ مہارت کے تبادلے پر زور دیا گیا۔ اس بات پر بھی اتفاق ہوا کہ باہمی دفاعی اشتراک نہ صرف دونوں ملکوں کی سلامتی بلکہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے بھی کلیدی کردار ادا کرے گا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس موقع پر پاکستان اور ترکیے کے درمیان برادرانہ تعلقات، تاریخی وابستگی، باہمی اعتماد اور عوامی سطح پر مضبوط رشتوں کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات محض سفارتی یا عسکری نہیں بلکہ دلوں کے رشتوں پر مبنی ہیں۔
ترک جنرل سلجوق بائرکتار اولو نے پاکستان میں شاندار میزبانی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے پاک فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیت، نظم و ضبط اور آپریشنل تیاریوں کو سراہا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ترکیے پاکستان کے ساتھ فوجی تربیت، مشترکہ مشقوں اور دفاعی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے تعاون جاری رکھے گا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دورہ پاک–ترکی اسٹریٹجک شراکت داری کی مضبوطی کی عکاسی کرتا ہے اور دونوں ممالک کے اس مشترکہ عزم کا اظہار ہے کہ وہ خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کے لیے مل کر کام کرتے رہیں گے
