وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کے امکان کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ چونکہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگانا ممکن نہیں، اسی لیے انہیں سیاسی طور پر نااہل کرانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
مینگورہ میں پاکستان تحریکِ انصاف کی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعلیٰ نے کہا کہ صوبے کے عوام باخبر، باشعور اور اپنے آئینی حقوق سے آگاہ ہیں اور کسی بھی غیر جمہوری یا غیر آئینی اقدام کو ہرگز قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ جلد خود وادی تیراہ کا دورہ کریں گے اور وہاں کے عوام کے ساتھ جرگہ منعقد کر کے زمینی حقائق اور مسائل براہِ راست سنیں گے۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں عوامی مینڈیٹ کو کمزور کرنے کی ہر کوشش ناکام ہوگی اور صوبے کا مستقبل عوام کی مرضی کے مطابق ہی طے ہوگا۔
ادھر پاکستان تحریکِ انصاف نے 8 فروری کو عام انتخابات کے دو سال مکمل ہونے پر ملک بھر میں ہڑتال کی کال دے رکھی ہے، جس کے لیے پارٹی کی جانب سے بھرپور تیاریوں کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب وفاقی حکومت نے واضح کیا ہے کہ 8 فروری کو کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی، تاہم پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے۔
وزیراعظم کے مشیر رانا ثنااللہ نے تحریک انصاف کو مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی مسائل کا حل سڑکوں پر نہیں بلکہ مذاکرات کی میز پر موجود ہے، لہٰذا پی ٹی آئی کو چاہیے کہ بات چیت کے ذریعے راستہ نکالے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ اگرچہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج ایک آئینی آپشن کے طور پر موجود ہے، لیکن اس کے باوجود حکومت اس راستے پر جانا نہیں چاہتی، جبکہ سیاسی فضا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے آنے والے دنوں کو خاصا اہم بنا دیا ہے۔
