پاکستان نے پولیو کے خاتمے کے لیے اپنی وسیع عوامی صحت کی مشینری کو ایک بار پھر متحرک کرتے ہوئے پیر کے روز سال کی پہلی قومی انسدادِ پولیو مہم کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ مہم اس عزم کی عکاس ہے کہ حکومت ایک ایسے مرض کو مکمل طور پر ختم کرنا چاہتی ہے جو نہ صرف ملک کے صحت کے نظام کے لیے ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ سے بھی جڑا ہوا ہے، کیونکہ پاکستان اب بھی دنیا کے ان دو ممالک میں شامل ہے جہاں پولیو وائرس موجود ہے۔
سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق اس تازہ مہم کا مقصد پانچ سال سے کم عمر کے 4 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانا ہے۔ یہ ایک غیر معمولی سطح کی قومی کوشش ہے جس میں لاکھوں تربیت یافتہ فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز اور رضاکار حصہ لے رہے ہیں۔ یہ ٹیمیں گھر گھر جا کر بچوں کو ویکسین پلائیں گی تاکہ کوئی بھی بچہ حفاظتی ٹیکے سے محروم نہ رہ جائے۔ حکام کے مطابق اس مہم کو حالیہ برسوں میں پولیو کے خلاف حاصل ہونے والی کامیابیوں کو برقرار رکھنے اور وائرس کی واپسی کو روکنے کے لیے نہایت اہم سمجھا جا رہا ہے۔
پولیو کا خاتمہ پاکستان کے لیے ایک مرکزی عوامی صحت کا ہدف بنا ہوا ہے۔ اگرچہ گزشتہ برسوں میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، تاہم یہ وائرس اب بھی بعض علاقوں میں موجود ہے، جس کی وجوہات میں غلط فہمیاں، انتظامی مشکلات، سکیورٹی خدشات اور قدرتی آفات شامل ہیں۔ افغانستان کے ساتھ پاکستان واحد ممالک میں شامل ہے جہاں پولیو ابھی تک مقامی طور پر پایا جاتا ہے، جس کے باعث بین الاقوامی برادری کی جانب سے بھی مسلسل توجہ اور دباؤ موجود ہے۔
اس کے باوجود صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ اعداد و شمار حوصلہ افزا ہیں۔ سال 2025 میں پاکستان میں پولیو کے 31 مصدقہ کیسز رپورٹ ہوئے، جو 2024 میں سامنے آنے والے 74 کیسز کے مقابلے میں نمایاں کمی ہے۔ حکام اس کمی کو مثبت پیش رفت قرار دیتے ہیں، تاہم ساتھ ہی یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ پولیو کے خاتمے کے لیے ایک بھی کیس ناقابلِ قبول ہے۔ ان کے مطابق وائرس کا بعض علاقوں میں باقی رہنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر ذرا سی بھی غفلت برتی گئی تو صورتحال دوبارہ بگڑ سکتی ہے۔
اس قومی مہم کے شیڈول اور دائرۂ کار کی تفصیلات گزشتہ ماہ وزیرِ اعظم کی فوکل پرسن برائے انسدادِ پولیو، عائشہ رضا فاروق، نے جاری کی تھیں۔ ان کے مطابق یہ مہم 2 فروری سے 8 فروری تک پورے ملک میں چلائی جا رہی ہے، جس میں شہری علاقوں کے ساتھ ساتھ دیہی اور دور دراز خطے بھی شامل ہیں۔ اس دوران لاکھوں بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے تاکہ وائرس کے پھیلاؤ کا سلسلہ مکمل طور پر توڑا جا سکے۔
اس بڑے ہدف کے حصول کے لیے تقریباً چار لاکھ تربیت یافتہ ویکسینیٹرز اور معاون عملہ تعینات کیا گیا ہے۔ یہ ٹیمیں گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کی حکمتِ عملی پر عمل کر رہی ہیں، جسے ماہرین سب سے مؤثر طریقہ قرار دیتے ہیں، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں صحت کی سہولیات تک رسائی محدود ہے۔ اس طریقۂ کار کے ذریعے والدین سے براہِ راست رابطہ بھی ممکن ہوتا ہے، جس سے خدشات دور کرنے، غلط معلومات کا ازالہ کرنے اور بار بار ویکسین پلانے کی اہمیت اجاگر کرنے میں مدد ملتی ہے۔
اگرچہ مہم پورے ملک میں چلائی جا رہی ہے، تاہم بعض صوبوں میں انتظامی اور سکیورٹی چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف دورانیے کی حکمتِ عملی اختیار کی گئی ہے۔ سرکاری نشریاتی ادارے ریڈیو پاکستان کے مطابق پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا میں انسدادِ پولیو سرگرمیوں کا آغاز پیر کے روز ہوا، جبکہ ہر صوبے میں مقامی حالات کے مطابق شیڈول ترتیب دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ لچکدار طریقۂ کار گزشتہ مہمات سے حاصل ہونے والے تجربات کی بنیاد پر اپنایا گیا ہے۔
صوبائی قیادت نے بھی اس مہم کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے بھرپور شرکت کی۔ سندھ میں وزیرِ اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے کراچی میں بچوں کو پولیو کے قطرے پلا کر مہم کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ ان کا یہ اقدام عوام میں اعتماد پیدا کرنے اور ویکسین کی افادیت پر یقین کو مضبوط بنانے کے لیے کیا گیا۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ پولیو کے خلاف جنگ میں مکمل خاتمہ ہی واحد قابلِ قبول نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق وائرس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہوگا، کیونکہ وقتی کمی یا جزوی کامیابی کافی نہیں۔ ان کے یہ خیالات ماہرینِ صحت کے اس مؤقف کی عکاسی کرتے ہیں کہ پولیو کو شکست دینے کے لیے مسلسل، بلا تعطل اور ہمہ گیر ویکسینیشن ناگزیر ہے۔
وفاقی سطح پر پولیو مہمات کی نگرانی کرنے والے نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (NEOC) نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ بار بار قومی سطح کی مہمات جاری رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ ادارے کے مطابق سال 2025 میں ملک بھر میں چھ قومی انسدادِ پولیو مہمات چلائی گئیں، جن کا مقصد بچوں میں مدافعتی سطح کو برقرار رکھنا تھا، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں ماضی میں وائرس کی موجودگی دیکھی گئی ہے۔
NEOC نے ایک مرتبہ پھر والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ پولیو ٹیموں سے مکمل تعاون کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کے بچے پولیو کے قطرے ضرور حاصل کریں۔ حکام کے مطابق پولیو ویکسین محفوظ، مؤثر اور بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے بچانے کے لیے نہایت ضروری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ویکسین سے انکار یا ہچکچاہٹ بچوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہے اور وائرس کو پھیلنے کا موقع دے سکتی ہے۔
تاہم پولیو کے خاتمے کی راہ میں درپیش مشکلات اب بھی سنگین ہیں۔ ان میں سب سے بڑا مسئلہ پولیو ورکرز کی سکیورٹی ہے۔ خاص طور پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے بعض علاقوں میں ویکسینیشن ٹیموں اور ان کے سکیورٹی اہلکاروں کو شدت پسند حملوں کا سامنا رہا ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور کئی علاقوں میں مہمات متاثر ہوئیں، جس سے دور دراز علاقوں کے بچوں تک رسائی مشکل ہو گئی۔
دسمبر 2025 میں باجوڑ ضلع میں پیش آنے والا ایک افسوسناک واقعہ بھی انہی خطرات کی یاد دہانی ہے، جہاں پولیو ٹیم پر فائرنگ کے نتیجے میں ایک پولیس کانسٹیبل اور ایک شہری جاں بحق ہو گئے۔ ایسے واقعات اس بات کو نمایاں کرتے ہیں کہ پولیو کے خلاف جدوجہد صرف طبی نہیں بلکہ سکیورٹی کا مسئلہ بھی بن چکی ہے۔ اگرچہ حکومت پولیو ٹیموں کو سکیورٹی فراہم کرتی ہے، مگر خطرات مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکے۔
سکیورٹی کے علاوہ قدرتی آفات نے بھی حالیہ برسوں میں پولیو مہمات کو متاثر کیا ہے۔ سیلاب اور دیگر موسمی ہنگامی صورتحال کے باعث بڑے پیمانے پر آبادی کی نقل مکانی ہوئی، انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا اور صحت کی معمول کی سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔ ان حالات میں کئی علاقوں میں ویکسینیشن مہمات ملتوی یا محدود کرنا پڑیں، جس سے حفاظتی دائرے میں خلا پیدا ہوا۔
ماہرینِ صحت کے مطابق ان تمام چیلنجز سے نمٹنے کے لیے صرف طبی اقدامات کافی نہیں، بلکہ کمیونٹی کی شمولیت، سیاسی عزم اور بین الاقوامی تعاون بھی ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پولیو کا خاتمہ ایک سماجی اور انتظامی مسئلہ بھی ہے، جس کے لیے اعتماد سازی، غلط معلومات کا خاتمہ اور ویکسین تک بلا تعطل رسائی ضروری ہے۔
جیسے ہی سال کی پہلی قومی انسدادِ پولیو مہم جاری ہے، پاکستانی حکام کو امید ہے کہ مسلسل محنت اور عوامی تعاون کے ذریعے ملک پولیو فری مستقبل کے مزید قریب پہنچ جائے گا۔ گزشتہ برس کیسز میں نمایاں کمی نے نئی امید ضرور پیدا کی ہے، تاہم حکام بخوبی جانتے ہیں کہ بیماری کے خاتمے کے آخری مراحل سب سے زیادہ مشکل ہوتے ہیں۔
فی الحال تمام تر توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ ہر بچے تک، ہر علاقے میں، بغیر کسی استثنا کے، پولیو ویکسین پہنچائی جائے۔ لاکھوں بچوں کی ویکسینیشن، ہزاروں ٹیموں کی فیلڈ میں موجودگی اور عالمی برادری کی نظریں پاکستان پر جمی ہونے کے تناظر میں، یہ مہم ایک بڑا امتحان بھی ہے اور ایک سنہری موقع بھی—ایسا موقع جو اس بات کا تعین کر سکتا ہے کہ آیا پاکستان پولیو وائرس کو ہمیشہ کے لیے تاریخ کا حصہ بنا پاتا ہے یا نہیں۔
