بحیرۂ عرب میں امریکی نیوی اور ایرانی ڈرون کے درمیان تازہ ترین کشیدگی نے خطے میں سلامتی اور دفاعی توازن کو ایک بار پھر مرکز نگاہ بنا دیا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے بیان کے مطابق منگل کو یو ایس ایس ابراہم لنکن نامی امریکی ایئرکرافٹ کیریئر کے قریب ایک ایرانی ساختہ ‘شاہد-139’ ڈرون نے بغیر واضح مقصد کے تیور بدلتے ہوئے کیریئر کی سمت پرواز کی، جسے امریکی افواج نے احتیاطی دفاعی کارروائی میں مار گرایا۔
سینٹرل کمانڈ نے بتایا کہ بحیرۂ عرب میں تقریباً 500 میل (800 کلومیٹر) دور ایران کے ساحل سے، امریکی F-35C لڑاکا طیارے نے ڈرون کو تباہ کیا جب وہ متعدد انتباہات اور کشیدگی کم کرنے کے اقدامات کے باوجود اپنے راستے پر گامزن رہا۔ امریکی حکام نے واضح کیا کہ اس اقدام کا مقصد نہ صرف بحری بیڑے بلکہ اس پر موجود عملے کی سلامتی تھا، اور اس دوران کسی امریکی فوجی کو نقصان نہیں پہنچا، نہ ہی کوئی عسکری ساز و سامان متاثر ہوا۔
یہ واقعہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان پہلے ہی سفارتی و عسکری کشیدگی کے اشارے موجود ہیں اور واشنگٹن نے ایرانی جوہری پروگرام پر مذاکرات کے لئے دوبارہ دروازے کھولنے کی کوششیں بھی شروع کی ہیں۔ اسی دن بحیرۂ ہرمز میں ایک اور واقعے میں ایران کی اسلامی انقلاب گارڈ کور (IRGC) کے سپیڈ بوٹس اور ایک موہاجر ڈرون نے امریکی پرچم والے تجارتی جہاز “Stena Imperative” کو خطرناک انداز سے نزدیک آتے ہوئے روکا، جس پر امریکی ڈیسٹرائر USS McFaul اور فضائی سپورٹ نے بروقت مداخلت کی اور جہاز کو محفوظ زون تک پہنچایا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ شاہد-139 ڈرون ایران کی جانب سے استعمال ہونے والا تیز رفتاری اور خود مختار نظام رکھنے والا بغیر پائلٹ طیارہ ہے، جسے عام طور پر نگرانی یا عسکری مقاصد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے، مگر اس کی اصل نیت واضح نہیں رہی۔
یہ واقعہ امریکا اور ایران کے مابین پچھلے کچھ ہفتوں کے دوران بڑھتی ہوئی کشیدگی کا حصہ ہے جہاں دونوں ممالک مذاکرات اور عسکری دباؤ کے درمیان پیچیدہ صورتحال میں پھنسے ہوئے ہیں۔ واشنگٹن نے دفاعی طاقت میں اضافہ کیا ہوا ہے، جب کہ ایران نے بھی سخت موقف اختیار کیا ہے، مگر دونوں اطراف نے مذاکرات کے امکان کو مکمل طور پر رد نہیں کیا۔
