کرملین کے ترجمان دمتری پیشکوف نے اعلان کیا ہے کہ ایران سے افزودہ یورینیم کی روس منتقلی کا معاملہ طویل عرصے سے عالمی سفارتی ایجنڈے پر موجود ہے اور ماسکو اس ضمن میں تمام متعلقہ فریقوں سے مسلسل رابطے میں ہے تاکہ خطے میں کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔
پیشکوف نے واضح کیا کہ روس اس قسم کی خدمات پہلے بھی فراہم کرتا رہا ہے اور اب بھی کوششیں جاری ہیں تاکہ ایران کے جوہری مواد کے حوالے سے پیدا ہونے والے تنازعات کو پُرامن طریقے سے حل کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ موضوع گزشتہ ماہ بھی زیرِ بحث رہا ہے، تاہم امریکہ اور ایران کے ساتھ مخصوص مذاکرات کی تفصیلات دینے سے انکاری رہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا تھا کہ ماسکو ایران سے مقررہ حد سے زائد افزودہ یورینیم لے کر اسے دوبارہ پروسیس کر سکتا ہے اور پھر اسے ایران کو اس کے پرامن جوہری پروگرام کے لیے واپس فراہم کر سکتا ہے
اس جامع حکمتِ عملی کا مقصد جوہری عدم پھیلاؤ کے عالمی معاہدوں کی پاسداری کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر کشیدگی کو کم کرنا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب تہران اور مغربی ممالک کے تعلقات میں پیچیدگیاں زیادہ ہیں۔
