سعودی عرب میں تعینات پاکستان کے سفیر احمد فاروق نے کہا ہے کہ پاک سعودی دفاعی معاہدے نے دونوں برادر ممالک کے تعلقات کو ایک نئی جہت دی ہے، جس کے مثبت اثرات نہ صرف حکومتی سطح پر بلکہ عوامی روابط میں بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ شراکت داری اب روایتی سفارتی تعلقات سے آگے بڑھ کر اسٹریٹیجک تعاون کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
اپنے ایک بیان میں سفیر احمد فاروق نے بتایا کہ پاکستان اور سعودی عرب مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے کے لیے سرگرم ہیں، جبکہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا متوقع دورۂ پاکستان اس تعاون کو مزید وسعت دینے کا سبب بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس اعلیٰ سطحی دورے سے سرمایہ کاری، تجارت اور دفاعی تعاون کے نئے دروازے کھلنے کی امید ہے۔
سفیر پاکستان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت، ٹیکسٹائل سمیت کم از کم آٹھ اہم شعبوں میں معاہدوں کی تیاری جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان معاہدوں سے نہ صرف باہمی تجارت میں اضافہ ہوگا بلکہ پاکستانی معیشت کو بھی براہِ راست فائدہ پہنچے گا، خاص طور پر برآمدات اور روزگار کے مواقع میں بہتری آئے گی۔
احمد فاروق نے انکشاف کیا کہ سعودی عرب میں پاکستانی مصنوعات کی برآمدات تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔ ان کے مطابق صرف اشیاء کی برآمدات ہی نہیں بلکہ سروسز کے شعبے میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب کو پاکستانی اشیاء کی برآمدات سالانہ 720 ملین ڈالر تک پہنچ چکی ہیں، جبکہ سروسز کی برآمدات 590 ملین ڈالر تک جا پہنچی ہیں، جو دوطرفہ اقتصادی تعاون کی مضبوطی کا ثبوت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ افرادی قوت کے شعبے میں بھی پیش رفت جاری ہے اور 2025 کے دوران تقریباً پانچ لاکھ پاکستانی ورکرز سعودی عرب پہنچے، جو دونوں ممالک کے درمیان گہرے اعتماد اور روزگار کے مواقع میں اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔ سفیر پاکستان کے مطابق پاک سعودی تعلقات اب دفاع، معیشت، سرمایہ کاری اور انسانی وسائل کے شعبوں میں ایک جامع اور مضبوط شراکت داری کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔
