امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ افغانستان میں امریکی انخلا کے دوران چھوڑا گیا اسلحہ اب پاکستان میں دہشت گرد کارروائیوں میں استعمال ہو رہا ہے، جو خطے کی سیکیورٹی صورتحال کیلئے ایک سنگین چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ جدید ہتھیار دہشت گرد تنظیموں کی کارروائیوں کو زیادہ مہلک اور منظم بنا رہے ہیں۔
سی این این نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) جیسے گروہ امریکی ساختہ رائفلز، مشین گنز اور اسنائپر ہتھیار استعمال کر رہے ہیں۔ ان ہتھیاروں کی دستیابی نے نہ صرف دہشت گردوں کی جنگی صلاحیت میں اضافہ کیا ہے بلکہ سیکیورٹی فورسز کے خلاف حملوں کی نوعیت اور شدت بھی بڑھا دی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردوں کے پاس جدید اسلحہ آنے کے بعد ان کے حملے زیادہ منظم، دور مار اور مہلک ہو گئے ہیں، جس سے انسداد دہشت گردی کارروائیوں میں نئی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔ امریکی ہتھیاروں کی غیر قانونی منتقلی اور اسمگلنگ نے سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی خطرات میں اضافہ کیا ہے۔
امریکی حکومت کے نگران ادارے اسپیشل انسپکٹر جنرل فار افغانستان ری کنسٹرکشن (SIGAR) کے سربراہ جان سوپکو کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی افواج کے انخلا کے وقت تقریباً تین لاکھ ہتھیار افغانستان میں رہ گئے تھے۔ انہی ہتھیاروں میں سے کچھ جنوبی وزیرستان اور بلوچستان میں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں استعمال ہونے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔
دوسری جانب پاکستان پہلے ہی بین الاقوامی برادری اور افغان حکام کو متعدد بار یہ مؤقف دے چکا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کیلئے استعمال ہو رہی ہے۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ایسے شواہد موجود ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ ٹی ٹی پی سمیت دیگر گروہ افغانستان میں موجود محفوظ پناہ گاہوں سے کارروائیاں کر رہے ہیں اور جدید امریکی اسلحہ ان کی صلاحیت میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر اسلحے کی غیر قانونی ترسیل کو نہ روکا گیا تو یہ صورتحال نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کیلئے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ رپورٹ نے ایک بار پھر اس سوال کو اجاگر کر دیا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے جدید ہتھیاروں کا کنٹرول کس کے پاس ہے اور انہیں دہشت گردوں تک پہنچنے سے روکنے کیلئے عالمی سطح پر کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں
