پاکستان اور ازبکستان کے تعلقات ایک نئے اور مضبوط مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں، جہاں دونوں ممالک نے باہمی تعاون کو محض سفارتی سطح تک محدود رکھنے کے بجائے اسے عملی اور جامع شراکت داری میں تبدیل کرنے کا واضح عندیہ دیا ہے۔ اسلام آباد میں ازبک صدر شوکت مرزیایوف کے دو روزہ سرکاری دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان 28 مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) اور باقاعدہ معاہدوں پر دستخط کیے گئے، جو معاشی، دفاعی، صنعتی، زرعی اور علاقائی رابطہ کاری کے مختلف شعبوں کا احاطہ کرتے ہیں۔
صدر شوکت مرزیایوف جمعرات کی شام ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچے، جس میں ازبکستان کے سینئر حکومتی عہدیداران، کاروباری شخصیات، پالیسی ساز اور اقتصادی ماہرین شامل تھے۔ ان کا دورہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ دونوں ممالک جنوبی اور وسطی ایشیا کے درمیان روابط کو وسعت دینے کو کس قدر اہمیت دے رہے ہیں۔ نور خان ایئربیس پر ان کا پرتپاک اور باوقار استقبال کیا گیا، جہاں صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیر اعظم شہباز شریف اور وفاقی کابینہ کے اہم ارکان نے ان کا خیر مقدم کیا۔ سرکاری پروٹوکول کے تحت صدر مرزیایوف کو ریڈ کارپٹ ویلکم دیا گیا، جو دوطرفہ تعلقات کی اہمیت کا واضح مظہر تھا۔
اسلام آباد میں منعقد ہونے والی ایک خصوصی تقریب کے دوران دونوں ممالک کے سینئر وزرا اور اعلیٰ حکام کے درمیان 28 میں سے 20 معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں کا باضابطہ تبادلہ کیا گیا۔ یہ دستاویزات مستقبل میں پاکستان اور ازبکستان کے درمیان تعاون کے لیے ایک جامع فریم ورک فراہم کرتی ہیں، جس کا مقصد صرف تجارت نہیں بلکہ پائیدار ترقی، سلامتی اور علاقائی استحکام کو فروغ دینا ہے۔
ان معاہدوں میں جن شعبوں پر خصوصی توجہ دی گئی ہے، ان میں دفاعی تعاون، سیکیورٹی، ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی مشترکہ حکمت عملی، قدرتی آفات کے خطرات میں کمی، ہنگامی حالات میں باہمی تعاون، زراعت، خوراک کی سلامتی، معدنیات اور ارضیاتی علوم شامل ہیں۔ اس کے علاوہ زرعی برآمدات، خصوصاً پھلوں کی برآمد کے لیے سینیٹری اور فائیٹو سینیٹری معیار سے متعلق پروٹوکول بھی طے پائے، تاکہ دونوں ممالک کے درمیان زرعی تجارت کو محفوظ اور آسان بنایا جا سکے۔
قانونی اور سماجی شعبوں میں بھی تعاون کو فروغ دینے کے لیے سزا یافتہ افراد کی منتقلی اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف مشترکہ اقدامات سے متعلق معاہدے شامل کیے گئے، جو اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دونوں ممالک خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔
معاہدوں کے تبادلے کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب میں کہا کہ پاکستان ان تمام معاہدوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے پرعزم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان ہر اس شعبے میں اقتصادی مفادات کو فروغ دے گی جہاں دوطرفہ تعاون کے امکانات موجود ہیں۔ وزیر اعظم کے مطابق زراعت، فارماسیوٹیکل انڈسٹری، ٹیکسٹائل، سیاحت، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ویلیو ایڈڈ صنعتیں مستقبل میں خاص توجہ کا مرکز رہیں گی۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان ازبکستان کو صرف ایک تجارتی شراکت دار نہیں بلکہ وسطی ایشیا تک رسائی کا ایک اہم دروازہ سمجھتا ہے، جبکہ ازبکستان پاکستان کو بحیرہ عرب کے ذریعے عالمی منڈیوں تک پہنچنے کا ایک مؤثر راستہ تصور کرتا ہے۔
دورے کے دوران گفتگو کا ایک نہایت اہم نکتہ ازبکستان-افغانستان-پاکستان (یو اے پی) ریلوے منصوبہ رہا، جسے دونوں ممالک نے پورے خطے کے لیے انقلابی منصوبہ قرار دیا۔ اس مجوزہ ریلوے کوریڈور کا مقصد ازبکستان کو افغانستان کے راستے پاکستان سے جوڑنا ہے، تاکہ وسطی ایشیا کے خشکی میں گھرے ممالک کو پاکستانی بندرگاہوں تک براہ راست اور کم لاگت رسائی حاصل ہو سکے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ یہ ریلوے منصوبہ نہ صرف پاکستان اور ازبکستان بلکہ پورے خطے کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ پاکستان ازبک قیادت کے ساتھ مل کر اس منصوبے کے لیے عالمی مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاروں سے فنڈز کے حصول کے لیے بھرپور کوشش کرے گا، اور یہ عمل منصوبے کی فزیبلٹی اور مضبوط بزنس ماڈل کی بنیاد پر کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ علاقائی رابطہ کاری دونوں ممالک کے مشترکہ وژن کا حصہ ہے، کیونکہ مضبوط تجارتی روابط اور بہتر انفراسٹرکچر نہ صرف معیشت کو فروغ دیتے ہیں بلکہ خطے میں استحکام اور باہمی انحصار کو بھی بڑھاتے ہیں۔
صدر شوکت مرزیایوف کے دورے کا ایک اور اہم پہلو تعلیمی اور فکری سطح پر تعلقات کا فروغ تھا۔ پاکستان کی معروف جامعہ نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) نے ازبک صدر کو پاکستان اور ازبکستان کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے میں ان کی خدمات کے اعتراف میں اعزازی ڈاکٹریٹ آف فلسفی کی ڈگری اور پروفیسر کا اعزازی خطاب عطا کیا۔
دفاعی اور صنعتی تعاون کے ضمن میں ازبک صدر اور ان کے وفد نے اسلام آباد میں گلوبل انڈسٹریل اینڈ ڈیفنس سلوشنز (GIDS) کے مراکز کا دورہ بھی کیا۔ اس موقع پر پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے وفد کا خیر مقدم کیا۔ ازبک وفد کو پاکستان کی دفاعی صنعت، مقامی سطح پر تیار کردہ جدید دفاعی مصنوعات، صنعتی صلاحیتوں اور تکنیکی جدت سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
پاک فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کے مطابق وفد نے مختلف دفاعی مصنوعات کا مشاہدہ کیا، جو پاکستان کی دفاعی پیداوار میں خود کفالت اور صنعتی ترقی کی عکاسی کرتی ہیں۔ اس دورے سے مستقبل میں دفاعی ٹیکنالوجی، صنعتی شراکت داری اور مشترکہ منصوبوں کے امکانات کو تقویت ملی ہے۔
گزشتہ چند برسوں میں پاکستان اور ازبکستان کے درمیان اقتصادی روابط میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کی ایک بڑی وجہ پاکستان کی یہ حکمت عملی ہے کہ وہ خود کو جنوبی اور وسطی ایشیا کے درمیان علاقائی تجارتی اور ٹرانزٹ حب کے طور پر پیش کرے۔ ازبکستان جیسے خشکی میں گھرے ملک کے لیے پاکستانی بندرگاہیں عالمی تجارت تک رسائی کا ایک قدرتی راستہ فراہم کرتی ہیں، جبکہ پاکستان کے لیے وسطی ایشیا نئی منڈیوں اور توانائی تعاون کے مواقع پیدا کرتا ہے۔
یہ شراکت داری ماضی کے اہم معاہدوں پر بھی قائم ہے۔ پاکستان وہ پہلا شراکت دار تھا جس کے ساتھ ازبکستان نے دوطرفہ ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدہ کیا، اس کے بعد مارچ 2022 میں ترجیحی تجارتی معاہدہ (PTA) طے پایا، جس میں ابتدائی طور پر 17 اشیا شامل کی گئیں۔ یہ معاہدہ 2023 میں نافذ العمل ہوا اور اس نے دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کی۔
صدر مرزیایوف کے حالیہ دورے کے دوران طے پانے والے معاہدے اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ پاکستان اور ازبکستان محض بیانات تک محدود نہیں رہنا چاہتے بلکہ ایک ایسی شراکت داری کی طرف بڑھ رہے ہیں جو معاشی، دفاعی اور علاقائی سطح پر دیرپا فوائد فراہم کر سکے۔ اب اصل امتحان ان معاہدوں پر مؤثر عملدرآمد ہے، جس کے ذریعے نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورا خطہ اس تعاون کے ثمرات سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
