پاکستان تحریک انصاف خیبرپختونخوا کے صدر جنید اکبر نے قومی اسمبلی میں خطاب کا موقع نہ ملنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پارٹی کی نشست چھوڑنے کا اعلان کر دیا ہے، جس سے پارٹی کے اندرونی اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق جنید اکبر نے پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کے واٹس ایپ گروپ میں پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ آج کے بعد وہ نہ کسی پارلیمانی کمیٹی کا حصہ رہیں گے، نہ پارلیمانی لیڈر کو تسلیم کریں گے اور نہ ہی چیف وہپ کو مانیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں گزشتہ رمضان کے بعد اور بجٹ اجلاس کے دوران ہی فلور پر بات کرنے کا موقع ملا، جبکہ روزانہ چند مخصوص ارکان کو اظہار خیال کا موقع دیا جاتا ہے۔
جنید اکبر نے اپنے پیغام میں سوال اٹھایا کہ چیف وہپ کو یہ اختیار کس نے دیا ہے کہ وہ روزانہ فیصلے کرے اور طے کرے کہ کون بولے گا اور کون نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی شرافت کو کمزوری سمجھا جا رہا ہے اور ان کے اپنے لوگ “درباری” بن چکے ہیں کیونکہ وہ سخت مؤقف اختیار کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید اعلان کیا کہ وہ قومی اسمبلی کے اسپیکر کو خط لکھیں گے اور درخواست کریں گے کہ انہیں پی ٹی آئی سے الگ نشست دی جائے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ پیشرفت پی ٹی آئی کے پارلیمانی نظم و ضبط اور اندرونی حکمت عملی پر سوالات کھڑے کر سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب اپوزیشن صف بندی کے مرحلے سے گزر رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ آیا پارٹی قیادت اس معاملے کو داخلی سطح پر حل کرتی ہے یا یہ اختلافات مزید شدت اختیار کرتے ہیں۔
