اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے منگل کے روز امریکہ روانگی سے قبل واضح کیا ہے کہ ان کا واشنگٹن دورہ بنیادی طور پر ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے حوالے سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ اس دورے میں غزہ اور مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر بھی بات ہوگی، تاہم اولین ترجیح ایران کے ایٹمی اور میزائل پروگرام سے متعلق اصولی موقف پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ بات چیت کرنا ہے۔
اسرائیلی نشریاتی ادارے کے مطابق نیتن یاہو کے ہمراہ امریکی سفیر مائیک ہکابی بھی واشنگٹن جا رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم اسرائیل صدر ٹرمپ کو ایرانی بیلسٹک میزائل پروگرام کی بحالی سے متعلق معلومات فراہم کریں گے، جبکہ بعض امریکی ذرائع کا خیال ہے کہ اسرائیل ایران پر ممکنہ امریکی حملے کے امکانات پر زیادہ توجہ دے رہا ہے اور اسی اختیار پر زور دیا جائے گا۔
اسرائیلی چینل 13 کے مطابق نیتن یاہو اس دورے کو ایک "آخری موقع” کے طور پر دیکھ رہے ہیں تاکہ تہران کے ساتھ کسی ممکنہ معاہدے سے قبل امریکی موقف پر اثر انداز ہو سکیں۔ اسرائیل کا دیرینہ مطالبہ ہے کہ ایران یورینیم کی افزودگی مکمل طور پر بند کرے، میزائل پروگرام کو محدود کرے اور خطے میں مسلح حماس تنظیم اور دیگر گروہوں کی حمایت ترک کرے۔ ایران نے ان مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے صرف پابندیوں کے خاتمے کے بدلے ایٹمی پروگرام پر محدود پابندیاں قبول کرنے پر زور دیا ہے۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب گزشتہ سال امریکہ اور اسرائیل نے 12 روزہ جنگ کے دوران مشترکہ طور پر ایرانی فوجی اور ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔ موجودہ مذاکرات میں ایران کے خلاف مزید فوجی کارروائیوں کے امکان پر بھی بات چیت متوقع ہے۔ یاد رہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ خطے میں بڑھتی ہوئی امریکی فوجی سرگرمیوں کے تناظر میں گزشتہ ہفتے دوبارہ شروع ہوا ہے، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور بین الاقوامی توجہ میں اضافہ ہوا ہے۔
