غزہ میں جاری جنگ کے دوران مبینہ طور پر خطرناک تھرموبیرک بموں کے استعمال کا دعویٰ سامنے آیا ہے، جس پر بین الاقوامی سطح پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
خلیجی میڈیا رپورٹس کے مطابق دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان ہتھیاروں کے استعمال کے نتیجے میں ہزاروں فلسطینی جاں بحق ہوئے، جبکہ بعض ذرائع نے تقریباً 3000 افراد کے فضا میں تحلیل ہونے کا ہولناک الزام بھی عائد کیا ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے باضابطہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
رپورٹس کے مطابق تھرموبیرک بم، جنہیں ویکیوم بم بھی کہا جاتا ہے، انتہائی تباہ کن روایتی ہتھیاروں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق ایسے بم دھماکے کے وقت فضا میں موجود آکسیجن کو استعمال کرتے ہیں اور شدید درجہ حرارت اور دباؤ پیدا کرتے ہیں۔ بعض تجزیوں کے مطابق ان کا درجہ حرارت ہزاروں ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے، جس سے وسیع پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہو سکتا ہے۔
ماہرین قانون اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اگر شہری آبادی کے خلاف اس نوعیت کے ہتھیار استعمال کیے گئے ہیں تو یہ بین الاقوامی انسانی قانون اور جنگی ضوابط کی سنگین خلاف ورزی کے زمرے میں آ سکتا ہے۔ کچھ حلقوں نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ یورپ اور امریکا کی جانب سے اسرائیل کو ایسے ہتھیار فراہم کیے گئے، تاہم اس حوالے سے متعلقہ حکومتوں کی جانب سے کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
دوسری جانب اسرائیلی حکام ماضی میں شہری آبادی کو نشانہ بنانے کے الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں اور مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ کارروائیاں عسکری اہداف کے خلاف کی جاتی ہیں۔
غزہ کی صورتحال پہلے ہی شدید انسانی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے، جہاں اقوام متحدہ اور امدادی ادارے فوری جنگ بندی اور انسانی امداد کی بلا تعطل رسائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
بین الاقوامی مبصرین کے مطابق اس نوعیت کے الزامات کی غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات ناگزیر ہیں تاکہ حقائق سامنے آسکیں اور عالمی قوانین کی پاسداری کو یقینی بنایا جا سکے۔
