غزہ بورڈ آف پیس کے اہم اجلاس سے قبل فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے عالمی امن فورس کی تعیناتی سے متعلق اپنی شرائط واضح کر دی ہیں۔ تنظیم کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اگر غزہ میں عالمی فورس بھیجی جاتی ہے تو اسے سرحدی حدود تک محدود رہنا ہوگا اور فلسطین کے سول، سیاسی اور سکیورٹی معاملات میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔
حماس کے ترجمان بسیم نعیم نے واضح کیا کہ غزہ میں عالمی فورس پر اصولی طور پر اعتراض نہیں، بشرطیکہ وہ فریقین کے درمیان ایک حفاظتی تہہ کے طور پر کام کرے اور اس کا کردار صرف جنگ بندی کو برقرار رکھنے اور دونوں اطراف کو الگ رکھنے تک محدود ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عالمی اہلکاروں نے فلسطین کے داخلی امور میں مداخلت کی تو فلسطینی عوام انہیں ’’قابضین کا متبادل‘‘ تصور کریں گے، جو کسی صورت قابل قبول نہیں ہوگا۔
حماس کے مطابق عالمی فورس کا بنیادی مقصد جنگ بندی کو مستحکم کرنا اور فریقین کے درمیان کشیدگی کو کم کرنا ہونا چاہیے، نہ کہ انتظامی یا سیاسی معاملات میں دخل اندازی۔
واضح رہے کہ بورڈ آف پیس کے آئندہ اجلاس میں فلسطین میں عبوری حکومت کے قیام، حماس کے کردار اور مستقل جنگ بندی سے متعلق امور پر غور کیا جائے گا۔ اجلاس کے ایجنڈے میں عالمی امن فورس کی ممکنہ تعیناتی اور اس کے اختیارات کا دائرہ کار بھی شامل ہے، جس پر مختلف فریقین کے درمیان مشاورت متوقع ہے۔ مبصرین کے مطابق حماس کی جانب سے پیش کی گئی یہ شرائط اجلاس کی سمت اور مستقبل کے فیصلوں پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں
Add A Comment