اگرچہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نےگزشتہ روزاعلان کیا کہ ان کا ملک واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات میں ٹھوس نتائج حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا خیال ہے کہ ایران اب بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مقرر کردہ بعض "سرخ لکیروں” کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ان کا یہ تبصرہ منگل کو جنیوا میں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا۔
وینس نے اپنے بیانات میں اشارہ دیا کہ امریکہ اب بھی سفارتی راستے میں دل چسپی رکھتا ہے۔ اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر ایران نے واشنگٹن کی شرائط پوری نہ کیں جن میں سرِ فہرست اس کے جوہری پروگرام سے متعلق شرائط ہیں، تو اس کے خلاف طاقت کا استعمال کیا جائے گا۔
وینس نے انکشاف کیا کہ کچھ پہلوؤں میں معاملات بہتر رہے، جہاں ایرانیوں نے بعد میں ملاقات پر اتفاق کیا۔ لیکن نائب صدر نے اس طرف توجہ دلائی کہ دیگر پہلوؤں میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کچھ ایسی سرخ لکیریں متعین کی ہیں جنہیں ایرانی اب بھی قبول کرنے اور ان پر بات کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ویانس نے مزید کہا کہ امریکہ اس پر کام جاری رکھے گا، لیکن ان کے مطابق یہ صدر کا اختیار ہے کہ وہ طے کریں کہ سفارت کاری کب اپنے انجام کو پہنچتی ہے۔انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہم امید کرتے ہیں کہ ہم اس حد تک نہ پہنچیں، لیکن اگر ایسا ہوا تو فیصلہ صدر کا ہوگا، ان کا اشارہ فوجی کارروائی کی طرف تھا۔
یہ اس وقت سامنے آیا جب ایرانی صدر نے علماء کے ایک اجتماع میں اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ مذاکرات مکمل ہم آہنگی اور ایرانی مرشد علی خامنہ ای کی اجازت سے ہو رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مقصد مسائل کو حقیقی طور پر حل کرنا ہے، نہ کہ محض گفتگو کی خاطر گفتگو میں شامل ہونا۔پزشکیان نے یہ بھی باور کرایا کہ ہم سنجیدگی سے نتیجہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور ہمیں امید ہے کہ یہ راستہ ٹھوس نتائج پر منتج ہوگا۔مزید برآں، پزشکیان نے صدارتی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے بیان میں کہا کہ تہران اس بات کی "تصدیق” کے لیے تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر رہا۔
پزشکیان نے مزید کہا ہم قطعی طور پر جوہری ہتھیاروں کے حصول کی کوشش نہیں کر رہے، اور اگر کوئی فریق اس کی تصدیق کرنا چاہتا ہے تو ہم ایسی تصدیق کے لیے تیار ہیں،یہ اس وقت ہوا جب ایرانی وفد کی سربراہی کرنے والے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس بات کی تصدیق کی کہ گذشتہ دور کے مقابلے میں مذاکرات کے اس دور میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔
تاہم انہوں نے اس طرف اشارہ کیا کہ کچھ ایسے مسائل موجود ہیں جن پر دونوں فریقوں کی جانب سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔یہ بیانات فریقین کے درمیان ہفتوں تک دھمکیوں کے تبادلے اور خطے میں امریکی فوجی نقل و حرکت کے بعد سامنے آئے ہیں۔نیز یہ مذاکرات کے پہلے دور کے بعد سامنے آئے ہیں جو رواں ماہ 6 فروری کو مسقط میں منعقد ہوا تھا اور اسے بھی مثبت قرار دیا گیا تھا۔
امریکہ بارہا یورینیم کی افزودگی روکنے کا مطالبہ کر چکا ہے۔ اس نے ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور خطے میں مسلح گروہوں کی حمایت کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی ہے، یہ وہ مسائل ہیں جنہیں مذاکرات میں شامل کرنے کے لیے اسرائیل نے دباؤ ڈالا تھا۔
لیکن ایرانی موقف نے حال ہی میں ایک سے زیادہ مرتبہ اس بات پر زور دیا ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات صرف اور صرف جوہری فائل تک محدود رہے ہیں اور رہیں گے، جبکہ میزائلوں کے مسئلے کو "خود مختاری کا معاملہ” قرار دیا گیا ہے۔
تہران نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ یورینیم افزودہ کرنے کا اس کا حق ناقابلِ مذاکرات ہے۔
