سپریم کورٹ کے باہر اپوزیشن رہنماؤں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر راجا ناصر عباس نے کہا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کے پلیٹ فارم تلے پارلیمنٹ میں دھرنا دیا گیا، تاہم ماہ رمضان کے آغاز کے پیش نظر تمام دھرنے ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب اپوزیشن اگلا لائحہ عمل طے کرے گی۔
راجا ناصر عباس نے بانی پی ٹی آئی کے علاج کے حوالے سے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ علاج شفا انٹرنیشنل اسپتال میں ہونا چاہیے، اور بہنوں و ڈاکٹرز کو بانی سے ملایا جائے تاکہ وہ مطمئن ہو سکیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ بانی پی ٹی آئی نے کئی ہفتے پہلے شکایت کی تھی تو وقت پر علاج کیوں نہ ہوا، جسے انہوں نے "مجرمانہ فعل” قرار دیا۔
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ احتجاج اور مذاکرات کی ذمہ داری محمود اچکزئی اور علامہ ناصر عباس پر تھی، اور قیادت کے دھرنا ختم کرنے کے اعلان کے بعد حکومت نے بھی اپنا دھرنا ختم کر دیا۔
سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا میں عوام نے خود دھرنا دیا، پشاور ہائی کورٹ کے احکامات کے پیش نظر عدالت کا احترام لازم تھا۔ انہوں نے عوام کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے دھرنے کے دوران تکلیف برداشت کی، اور رمضان کے آغاز پر امن قائم رکھنے کا پیغام دیا۔
