پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ چھ دہائیوں سے جاری ’سرحدی راہداری نظام‘ آئندہ ایک سے دو ماہ میں مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان آمد و رفت صرف پاسپورٹ اور ویزے کے ذریعے ممکن ہوگی۔
یہ فیصلہ پاکستان اور ایران کے درمیان سرحدی انتظامات میں ایک بڑی اور تاریخی تبدیلی تصور کیا جا رہا ہے۔ محکمہ داخلہ بلوچستان کے مطابق اس اقدام سے سرحدی نقل و حرکت کو مزید منظم اور دستاویزی بنایا جا سکے گا۔
بلوچستان کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ حمزہ شفقات کے مطابق حکومت نے حتمی تاریخ تو مقرر نہیں کی تاہم ایک سے دو ماہ کے اندر مکمل طور پر ون ڈاکومنٹ رجیم (او ڈی آر) نافذ کر دیا جائے گا۔ اس کے بعد کسی بھی شہری کو پاسپورٹ اور ویزے کے بغیر سرحد عبور کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
1960 کے پاک ایران سرحدی انتظامی معاہدے کے تحت بلوچستان کے ایران سے ملحقہ اضلاع—چاغی، واشک، پنجگور، کیچ اور گوادر—کے رہائشیوں کو ’راہداری‘نامی اجازت نامے کے ذریعے سال میں دو مرتبہ محدود مدت کے لیے بغیر پاسپورٹ اور ویزے ایران جانے کی سہولت حاصل تھی۔ یہ اجازت نامے متعلقہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز جاری کرتے تھے۔
وقت کے ساتھ اس نظام کو سخت کیا گیا اور 2023 میں اسے کمپیوٹرائزڈ بھی کیا گیا تاکہ جعلی راہداریوں کی روک تھام کی جا سکے۔
حکام کے مطابق افغانستان کے بعد ایران کے ساتھ بھی مکمل دستاویزی نظام کا نفاذ ایک وسیع سکیورٹی حکمت عملی کا حصہ ہے جسے ’سپیکٹرم آف الیگل ایکٹیویٹیز‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت غیر قانونی آمد و رفت، منشیات، تیل، نان کسٹم پیڈ گاڑیوں اور دیگر اسمگلنگ نیٹ ورکس کے خاتمے کو ہدف بنایا گیا ہے۔
حکام کا مؤقف ہے کہ غیر قانونی سرگرمیوں کی موجودگی میں بلوچستان میں دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں کیونکہ انہی ذرائع سے عسکریت پسند گروہوں کو مالی معاونت ملتی ہے۔
سرحدی علاقوں میں ماضی میں ہونے والے حملوں اور حالیہ کشیدگی کو بھی اس فیصلے کی ایک وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ جنوری 2024 میں کشیدگی اس وقت عروج پر پہنچی جب ایران نے بلوچستان کے ضلع پنجگور میں میزائل حملوں کا دعویٰ کیا، جس کے جواب میں پاکستان نے ایرانی ضلع سراوان میں کارروائی کا اعلان کیا تھا۔
تاہم سرحدی اضلاع کے رہائشی اس فیصلے کو اپنی معاشی اور سماجی زندگی کے لیے بڑا دھچکا قرار دے رہے ہیں۔ گوادر اور تفتان کے مقامی افراد کا کہنا ہے کہ راہداری نظام منقسم خاندانوں کے لیے ایک اہم سہولت تھا، جس کے خاتمے سے سرحد پار رشتہ داروں سے ملنا مشکل ہو جائے گا۔
کاروباری حلقے بھی تشویش میں مبتلا ہیں۔ کوئٹہ چیمبر آف کامرس کے سابق صدر کے مطابق عالمی پابندیوں اور خطے کی کشیدگی کے باعث ایران کے ساتھ تجارت پہلے ہی متاثر ہے، ایسے میں زمینی راستوں پر مزید پابندیاں تاجروں کے لیے مشکلات بڑھا سکتی ہیں،انہوں نے نشاندہی کی کہ گبد–رمدان کراسنگ پوائنٹ جیسے منصوبوں پر سرمایہ کاری کرنے والے مقامی تاجروں کو بھی امیگریشن بند ہونے سے شدید نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔
پاکستان اور ایران کے درمیان 900 کلومیٹر سے زائد طویل سرحد دشوار گزار پہاڑی اور ریگستانی علاقوں سے گزرتی ہے، جو ماضی میں غیر قانونی آمد و رفت اور اسمگلنگ کے لیے استعمال ہوتی رہی ہے۔سرحد کے دونوں اطراف سرگرم گروہوں میں بلوچ لبریشن آرمی، بلوچ لبریشن فرنٹ، جیش العدل اور جنداللہ شامل رہے ہیں، جن کی موجودگی کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات میں وقتاً فوقتاً تناؤ پیدا ہوتا رہا ہے۔
پاکستان نے 2019 میں سرحد پر 12 فٹ اونچی باڑ لگانے کا آغاز کیا جو دسمبر 2024 تک 90 فیصد سے زائد مکمل ہو چکی ہے۔ خندقوں، کنکریٹ کی دیواروں اور واچ ٹاورز کی تعمیر بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔حکومت کو امید ہے کہ راہداری نظام کے خاتمے اور مکمل دستاویزی نظام کے نفاذ سے سکیورٹی میں بہتری آئے گی اور غیر قانونی تجارت میں کمی ہوگی۔ دوسری جانب سرحدی آبادیوں کا مؤقف ہے کہ اس سے ان کے معاشی مواقع محدود ہوں گے اور خاندانی روابط متاثر ہوں گے۔
یوں ایران سرحد پر یہ نیا فیصلہ سکیورٹی اور معیشت کے درمیان ایک نازک توازن کا امتحان بن چکا ہے، جس کے اثرات آنے والے مہینوں میں واضح ہوں گے۔
