یورپی ممالک کے بلاک یورپی یونین نے غزہ میں جنگ بندی کے بعد انتظامی امور کی منتقلی کے لیے قائم کردہ نئی انتظامی کمیٹی کی حمایت کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔ اس پیش رفت کا انکشاف ایک اہم سفارتی دستاویز سے ہوا ہے جو یورپی یونین کے سفارتی دفتر کی جانب سے تیار کی گئی اور ایک مغربی خبر رساں ادارے کی نظر سے گزری۔
دستاویز کے مطابق یورپی یونین غزہ کے لیے تشکیل دی گئی انتظامی کمیٹی کے ساتھ عملی رابطہ استوار کرنے کی خواہاں ہے تاکہ مستقبل میں اشتراکِ عمل کو یقینی بنایا جا سکے۔ یہ دستاویز یورپی یونین کے رکن ممالک کو ارسال کر دی گئی ہے، جس کے بعد اس پر باضابطہ مشاورت کا آغاز متوقع ہے۔
رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر صدارت قائم ایک امن بورڈ کے ماتحت غزہ کے لیے نئی انتظامی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ اس انتظامی ڈھانچے کے تحت غزہ کا نظم و نسق جنگ بندی کے بعد اسی کمیٹی کے سپرد ہوگا، جو براہِ راست امن بورڈ کو جواب دہ ہوگی۔
ذرائع کے مطابق، اس امن بورڈ کے اتحادی غزہ میں کسی مکمل خودمختار حکومت کے قیام کے حق میں نہیں، بلکہ انتظامی کمیٹی کی سطح تک ہی نظم و نسق محدود رکھنے کے خواہاں ہیں۔
یاد رہے کہ 2006 کے انتخابات کے نتیجے میں غزہ میں ایک منتخب حکومت قائم ہوئی تھی، جس کی قیادت حماس کے ہاتھ میں آئی تھی۔ تاہم موجودہ سفارتی پیش رفت کے تناظر میں غزہ کے سیاسی مستقبل کا تعین مقامی فلسطینی قیادت کے بجائے بین الاقوامی سطح پر ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
یورپی یونین کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ آئندہ چند روز میں، متوقع طور پر 23 فروری کو، اس معاملے پر باضابطہ تبادلہ خیال کریں گے۔ اس سے قبل واشنگٹن میں امن بورڈ کا اجلاس متوقع ہے جہاں غزہ کے مستقبل سے متعلق اہم فیصلے کیے جا چکے ہوں گے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق، یورپی ممالک کی اکثریت نے امن بورڈ کی مکمل رکنیت قبول نہیں کی، تاہم یورپی کمیشن کی سفارتی نمائندہ مبصر کے طور پر اجلاس میں شرکت کریں گی۔ اس حکمت عملی کے تحت یورپی یونین امن بورڈ کے مالی اخراجات میں بڑی شراکت سے بھی گریز کر سکے گی، جبکہ جزوی سفارتی موجودگی برقرار رکھے گی۔
اس پوری پیش رفت نے یہ سوال بھی جنم دیا ہے کہ غزہ کے مستقبل سے متعلق اہم فیصلے کس حد تک فلسطینی قیادت کی مشاورت سے ہوں گے۔ بظاہر فیصلوں کا محور واشنگٹن اور برسلز بنتے جا رہے ہیں، جس سے علاقائی اور بین الاقوامی سفارت کاری میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق آئندہ دنوں میں یورپی یونین کے فیصلے نہ صرف غزہ کی داخلی انتظامی ساخت بلکہ مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سیاسی صورتِ حال پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
