ایران کے جوہری توانائی کے سربراہ محمد اسلامی نے واضح کیا ہے کہ کوئی بھی ملک اسلامی جمہوریہ ایران کو یورینیم افزودگی کے حق سے محروم نہیں کر سکتا۔ یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنیوا میں مذاکرات کے بعد ممکنہ فوجی کارروائی کے عندیہ کے پیش نظر سامنے آیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایرانی اخبار اعتماد کی جانب سے جاری ویڈیو میں محمد اسلامی نے کہا کہ جوہری صنعت کی بنیاد افزودگی ہے اور جوہری عمل کے لیے ایندھن لازمی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کا جوہری پروگرام بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے قواعد و ضوابط کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے اور کوئی ملک ایران کو اس ٹیکنالوجی کے پرامن استعمال سے محروم نہیں کر سکتا۔
ایران اور امریکہ کے درمیان عمان کی ثالثی میں دوسرے دور کے مذاکرات جنیوا میں منگل کو ہوئے، جبکہ پہلا دور چھ فروری کو عمان میں ہوا تھا۔ یہ مذاکرات اس 12 روزہ ایران–اسرائیل کشیدگی کے بعد پہلا براہِ راست رابطہ تھا، جس میں واشنگٹن اور تل ابیب نے محدود سطح پر ایرانی تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔
صدر ٹرمپ نے بدھ کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک بیان میں ایران پر ممکنہ حملے کا دوبارہ عندیہ دیا اور برطانیہ کو چاگوس جزائر میں خودمختاری ترک کرنے کی وارننگ دی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران معاہدے پر نہ آیا تو جزیرہ نما کے ڈیگو گارشیا فضائی اڈہ کا استعمال کیا جا سکتا ہے تاکہ انتہائی غیر مستحکم اور خطرناک حکومت کی ممکنہ جارحیت کو ختم کیا جا سکے۔
ایران نے بارہا واضح کیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے اور مغربی ممالک کے الزامات کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، بے بنیاد ہیں۔ واشنگٹن متعدد بار ایران سے صفر افزودگی کا مطالبہ کر چکا ہے، جبکہ بیلسٹک میزائل پروگرام اور خطے میں مسلح گروہوں کی حمایت جیسے امور بھی مذاکرات میں شامل کرنا چاہتا ہے، جس پر اسرائیل زور دیتا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ محمد اسلامی کا حالیہ بیان ایران کے موقف کی پختگی اور خودمختاری کے عزم کو اجاگر کرتا ہے، جبکہ جنیوا مذاکرات خطے میں کشیدگی کو کم کرنے اور پرامن حل تلاش کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔یہ موقف اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ایران نہ صرف اپنی جوہری ٹیکنالوجی کے حق میں پختہ موقف اختیار کر چکا ہے بلکہ عالمی قوانین کے مطابق پرامن ترقی کی راہ بھی مضبوطی سے اپنانے پر یقین رکھتا ہے۔
