عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں مزید بڑھ گئی ہیں، جس کا سبب ماہرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی ہے۔ اس کشیدگی کے باعث سرمایہ کار اور تیل کی عالمی مارکیٹ میں حکمت عملی رکھنے والے ممالک قیمتوں میں اضافے کی توقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے خرید و فروخت کر رہے ہیں۔
تازہ اعدادوشمار کے مطابق ڈبلیو ٹی آئی خام تیل 4.59 ڈالر اضافے کے بعد 64.19 ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچ گیا ہے، جبکہ برینٹ کروڈ آئل 2.86 ڈالر اضافے کے بعد 70.35 ڈالر فی بیرل ہوگیا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار رہی تو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
پاکستان میں بھی اس اضافے کے اثرات براہِ راست محسوس کیے جا سکتے ہیں، کیونکہ خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ کے پیش نظر پاکستانی صارفین کو مستقبل قریب میں پیٹرول، ڈیزل اور دیگر ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔
یہ صورتحال عالمی توانائی منڈی میں غیر یقینی صورتحال اور خطے میں جغرافیائی کشیدگی کی عکاسی کرتی ہے، اور سرمایہ کاروں و حکومتوں دونوں کے لیے فیصلے کرنے میں چیلنجز پیدا کر رہی ہے۔
