کمسن لڑکیوں کے جنسی استحصال کے مقدمات میں ملوث بدنام امریکی فنانسر Jeffrey Epstein سے متعلق امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری ایک دستاویز میں نئے انکشافات سامنے آئے ہیں جنہوں نے ایک بار پھر اس کیس کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔
دستاویز کے مطابق ایک مرحلے پر ایپسٹین کو امریکی وزارت دفاع کے ہیڈکوارٹر Pentagon اور Federal Bureau of Investigation (ایف بی آئی) سے منسلک ایک عمارت کی خریداری کی مبینہ پیشکش کی گئی تھی، جس کی قیمت 116 ملین ڈالر تجویز کی گئی۔ اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا تو ایپسٹین ایک اہم سرکاری عمارت کا مالک بن سکتا تھا، تاہم اس پیشکش کی نوعیت اور حیثیت کے بارے میں حکام کی جانب سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔
دستاویز میں شامل ایک ای میل میں ایف بی آئی کے ایک مخبر نے ایپسٹین کو اسرائیلی خفیہ ایجنسی Mossad کا ایجنٹ قرار دیا، تاہم اس دعوے کی نہ تو امریکی اور نہ ہی اسرائیلی حکام نے تصدیق کی ہے۔ ماضی میں بھی اس نوعیت کے الزامات زیر گردش رہے ہیں لیکن ان کی کوئی سرکاری توثیق سامنے نہیں آسکی۔
اسی تناظر میں اسرائیل کے سابق وزیر اعظم Ehud Barak سے ایپسٹین کے تعلقات بھی دوبارہ موضوع بحث بن گئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق براک متعدد بار ایپسٹین کی نیویارک رہائش گاہ پر گئے تھے، تاہم انہوں نے کسی بھی غیر قانونی یا خفیہ سرگرمی میں ملوث ہونے کی تردید کی تھی۔
واضح رہے کہ جیفری ایپسٹین کو 2019 میں کم عمر لڑکیوں کے جنسی استحصال کے الزامات میں گرفتار کیا گیا تھا اور بعد ازاں وہ نیویارک کی جیل میں مردہ پائے گئے۔ سرکاری طور پر ان کی موت کو خودکشی قرار دیا گیا، تاہم اس کیس کے گرد مختلف قیاس آرائیاں اور سازشی نظریات آج بھی گردش کر رہے ہیں۔
تازہ دستاویزات نے ایک بار پھر کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مزید تفصیلات سامنے آنے پر اس حساس معاملے میں نئی پیش رفت ہو سکتی ہے
