ملک میں ٹیکس نظام کو مزید شفاف اور مؤثر بنانے کے لیے ایک اہم پیش رفت کے طور پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے کاروباری سرگرمیوں کی آن لائن نگرانی کا دائرہ کار وسیع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کے تحت مختلف شعبوں میں کام کرنے والے اداروں اور کاروباری مراکز کو پوائنٹ آف سیل (POS) سسٹم کے ذریعے براہِ راست ایف بی آر کے مرکزی ڈیٹا بیس سے منسلک ہونا ہوگا، تاکہ فروخت اور آمدن کا ریکارڈ حقیقی وقت میں ٹیکس حکام تک پہنچ سکے۔ حکام کے مطابق اس فیصلے کا مقصد معیشت کو دستاویزی شکل دینا، ٹیکس چوری کی روک تھام کرنا اور محصولات میں اضافہ یقینی بنانا ہے۔
نئے نوٹیفکیشن کے تحت چودہ سے زائد شعبوں کو اس ڈیجیٹل نظام میں شامل کیا گیا ہے۔ اس توسیعی پالیسی کے ذریعے ایسے کاروبار جو اب تک روایتی طریقہ کار کے تحت چل رہے تھے، انہیں بھی جدید آن لائن مانیٹرنگ نظام کا حصہ بنایا جائے گا۔ ایف بی آر کا مؤقف ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف شفافیت بڑھے گی بلکہ تمام اہل کاروباروں کے درمیان مساوی ٹیکس ادائیگی کو بھی یقینی بنایا جا سکے گا۔
مہمان نوازی اور تقریبات سے متعلق شعبہ اس فیصلے سے براہِ راست متاثر ہوگا۔ ہوٹلوں، ریسٹورنٹس، گیسٹ ہاؤسز، شادی ہالز، مارکیز اور ریس کلبز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے بلنگ سسٹمز کو منظور شدہ POS نظام سے منسلک کریں۔ اس کے بعد ہر مالی لین دین خودکار طریقے سے ایف بی آر کے سسٹم میں ریکارڈ ہوگا۔ تاہم ایسے مراکز جو ایئرکنڈیشنڈ سہولت فراہم نہیں کرتے، انہیں اس شرط سے استثنیٰ دیا گیا ہے، تاکہ چھوٹے پیمانے کے کاروباروں پر اضافی مالی بوجھ نہ پڑے۔
صحت کے شعبے کو بھی اس نئے نظام کے دائرہ کار میں شامل کر لیا گیا ہے۔ دانتوں کے ڈاکٹرز، فزیوتھراپسٹس، پلاسٹک سرجنز، ہیئر ٹرانسپلانٹ ماہرین، ویٹرنری ڈاکٹرز، میڈیکل لیبارٹریز، اور ایکسرے، سی ٹی اسکین اور ایم آر آئی سینٹرز کو بھی اپنی خدمات کی بلنگ کے لیے POS سسٹم اختیار کرنا ہوگا۔ حکام کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ شعبے بڑی مالی سرگرمیوں سے منسلک ہیں، اس لیے ان کا ڈیجیٹل ریکارڈ رکھنا ضروری ہے۔
نجی اسپتالوں کو بھی اس نظام کے تحت لایا گیا ہے، تاہم ایسے اسپتال جو مریضوں سے پانچ سو روپے سے کم فیس وصول کرتے ہیں، انہیں اس شرط سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ اس رعایت کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے والے چھوٹے طبی مراکز کو اضافی دباؤ سے بچانا ہے۔
بیوٹی اور فلاحی خدمات فراہم کرنے والے مراکز بھی اس فیصلے کا حصہ ہیں۔ بیوٹی پارلرز، مساج سینٹرز، پیڈیکیور اور دیگر ذاتی نگہداشت سے متعلق کاروباروں کو بھی POS سسٹم نصب کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔ بڑے شہروں میں اس صنعت کی تیز رفتار ترقی کے باعث اسے بھی ٹیکس نیٹ میں مکمل طور پر لانا ضروری سمجھا گیا ہے۔
کھیل اور تفریحی سہولیات فراہم کرنے والے ادارے بھی اس نئی پالیسی کے تابع ہوں گے۔ جمز، ہیلتھ کلبز، سوئمنگ پولز، ملٹی پرپز کلبز اور پولو کلبز—چاہے وہ سول ہوں یا غیر سول—سب کو اپنی مالی سرگرمیوں کا ریکارڈ آن لائن فراہم کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس اور کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاؤنٹنٹس جیسے پیشہ ورانہ خدمات فراہم کرنے والوں کو بھی اس نظام سے منسلک ہونا لازم قرار دیا گیا ہے۔
بڑے شہروں لاہور، کراچی اور اسلام آباد میں قائم جم خانہ کلبز اور دیگر ممتاز کلبز کو بھی خصوصی طور پر اس ہدایت میں شامل کیا گیا ہے، کیونکہ یہ مراکز نمایاں مالی لین دین کے حامل ہوتے ہیں۔
تجارتی شعبے میں ریٹیلرز، مینوفیکچررز اور درآمد کنندگان کو بھی مکمل آن لائن انضمام یقینی بنانے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس سے ہر فروخت شدہ مصنوعات اور کاروباری سرگرمی کا ریکارڈ مرکزی سسٹم میں محفوظ ہوگا، جس سے ٹیکس چوری کے امکانات کم ہوں گے اور آڈٹ کا عمل زیادہ مؤثر بنے گا۔
مالیاتی خدمات فراہم کرنے والے ادارے بھی اس فیصلے کی زد میں آئے ہیں۔ فارن ایکسچینج ڈیلرز اور کرنسی ایکسچینج کمپنیاں بھی POS نظام کے تحت اپنی ٹرانزیکشنز کا ریکارڈ فراہم کریں گی، تاکہ کرنسی کی خرید و فروخت میں شفافیت برقرار رہے۔
تعلیمی اداروں کو بھی اس نئی حکمت عملی میں شامل کیا گیا ہے۔ نجی اسکولز، کالجز اور ووکیشنل ٹریننگ انسٹیٹیوٹس کو فیسوں اور دیگر ادائیگیوں کا ریکارڈ POS سسٹم کے ذریعے محفوظ کرنا ہوگا۔ تاہم ایسے ادارے جو ماہانہ ایک ہزار روپے تک فیس وصول کرتے ہیں، انہیں اس شرط سے استثنیٰ دیا گیا ہے، تاکہ کم آمدنی والے علاقوں میں قائم تعلیمی مراکز متاثر نہ ہوں۔
یہ اقدام ملک میں ڈیجیٹل ٹیکس نظام کے فروغ کی ایک بڑی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ مختلف شعبوں کو ایک مرکزی آن لائن مانیٹرنگ سسٹم سے منسلک کرکے حکومت معیشت کو مزید دستاویزی بنانے، محصولات بڑھانے اور شفافیت قائم کرنے کی سمت اہم قدم اٹھا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس پالیسی سے نہ صرف ٹیکس نیٹ وسیع ہوگا بلکہ کاروباری ماحول میں بھی احتساب اور نظم و ضبط کو فروغ ملے گا۔
