واشنگٹن: امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں سکاٹ بسینٹ نے ایران پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران عالمی مالیاتی نظام کو غیر قانونی مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ ان کے مطابق ایران غیر قانونی طور پر تیل فروخت کرتا ہے، اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کو خفیہ رکھتا ہے اور اسی سرمائے سے اپنے جوہری و روایتی ہتھیاروں کے پروگرام کے لیے حساس پرزہ جات حاصل کرتا ہے، جبکہ دہشت گرد گروہوں کی مالی معاونت بھی اسی نیٹ ورک کے ذریعے کی جاتی ہے۔
امریکی وزیرخزانہ نے واضح کیا کہ ڈونلڈٹرمپ کی قیادت میں انتظامیہ ایران کے خلاف ’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘ کی پالیسی جاری رکھے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ دباؤ ایران کی ہتھیاروں کی صلاحیت کو محدود کرنے اور خطے میں اس کے مبینہ تخریبی کردار کو روکنے کے لیے ناگزیر ہے۔
صدر ٹرمپ اس سے قبل بھی متعدد مواقع پر ایران کو سخت تنبیہ کر چکے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ اگر تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے کسی نئے معاہدے کی جانب پیش رفت نہ کی تو امریکا فوجی آپشن سمیت تمام امکانات پر غور کر سکتا ہے۔ منگل کی شب اپنے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں صدر ٹرمپ نے ایران پر ’خطرناک جوہری عزائم‘ رکھنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اپنے اتحادیوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔
دوسری جانب ایران نے محتاط مگر نسبتاً نرم مؤقف اپنایا ہے۔ ایرانی صدرمسعودپزیشکیان نے امریکا کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے مثبت توقعات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر باہمی احترام اور برابری کی بنیاد پر بات چیت ہو تو معاملات کو سفارتی ذرائع سے حل کیا جا سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی توانائی منڈی اور عالمی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ امریکا کی جانب سے مالیاتی دباؤ میں اضافہ ایران کی معیشت کو مزید چیلنجز سے دوچار کر سکتا ہے، جبکہ کسی بھی ممکنہ فوجی کشیدگی کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جائیں گے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا بڑھتی ہوئی بیان بازی کسی نئے سفارتی راستے کو جنم دیتی ہے یا خطہ ایک بار پھر شدید تصادم کی طرف بڑھتا ہے۔ عالمی برادری کی نظریں واشنگٹن اور تہران پر مرکوز ہیں، جہاں آنے والے دن صورتحال کا رخ متعین کریں گے۔
