ایران کی وزارتِ خارجہ نے اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے آج ہونے والے حملوں پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قوانین اور ریاستی خودمختاری کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ تہران سے جاری باضابطہ بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائیاں ایسے وقت میں کی گئیں جب ایران عالمی برادری کے ساتھ سفارتی عمل جاری رکھے ہوئے تھا اور ایک بار پھر مذاکرات کے ذریعے اپنی “جائز اور قانونی حیثیت” کو واضح کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
وزارتِ خارجہ کے مطابق ایران نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور بین الاقوامی نظام کے اندر رہتے ہوئے اپنے مؤقف کو پیش کرنے کی راہ اختیار کی، مگر اس کے باوجود اسے نشانہ بنایا گیا۔بیان میں کہا گیا کہ ایران کی مسلح افواج کو مکمل اختیار حاصل ہے کہ وہ جارح ممالک کو بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیں۔ حکام کے مطابق ایران اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے اور کسی بھی قسم کی جارحیت کو بلا جواب نہیں چھوڑے گا۔ اس مؤقف سے واضح اشارہ ملتا ہے کہ تہران ممکنہ عسکری ردِعمل پر غور کر رہا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
ایرانی وزارتِ خارجہ نے عالمی برادری سے بھی فوری ردِعمل کا مطالبہ کیا ہے۔ بیان میں خاص طور پر اقوام متحدہ کے رکن ممالک، علاقائی و اسلامی ریاستوں اور ناوابستہ تحریک کے اراکین سے اپیل کی گئی کہ وہ ان حملوں کی مذمت کریں اور ان کے خلاف فوری اور اجتماعی کارروائی کریں۔ ایران کا کہنا ہے کہ اگر عالمی ادارے اور ریاستیں اس موقع پر خاموش رہیں تو یہ طاقت کے یکطرفہ استعمال کو تقویت دے گا اور عالمی قانون کی ساکھ متاثر ہوگی۔
تہران نے آج صبح کے حملوں کو تاریخ کا ایک عظیم امتحان قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ لمحہ عالمی نظام کے لیے فیصلہ کن ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق اب یہ دیکھا جائے گا کہ آیا دنیا بین الاقوامی قوانین اور ریاستی خودمختاری کے اصولوں کا دفاع کرتی ہے یا نہیں۔ بیان کے اختتام پر سخت لہجے میں کہا گیا کہ ایران “جارحیت کرنے والوں کو اپنے مجرمانہ فعل پر پچھتاوا کرنے پر مجبور کرے گا”، جو اس بات کی علامت ہے کہ آئندہ دنوں میں حالات مزید کشیدہ ہو سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کا یہ بیان محض سفارتی احتجاج نہیں بلکہ ایک واضح سیاسی و عسکری پیغام بھی ہے۔ اس میں نہ صرف ممکنہ ردِعمل کی جھلک موجود ہے بلکہ عالمی برادری کو بھی ایک امتحان میں ڈال دیا گیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی کشیدہ حالات سے گزر رہا ہے اور اگر سفارتی کوششیں ناکام رہیں تو یہ بحران ایک وسیع علاقائی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ دنیا بھر کی نظریں اب تہران، واشنگٹن اور تل ابیب پر مرکوز ہیں کہ آیا یہ کشیدگی محدود رہتی ہے یا ایک نئے اور بڑے تصادم میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
