ہفتے کے روز امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف اچانک مشترکہ فضائی حملے کیے، جن کے دوران تہران میں مسلسل دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔ یہ حملے ایرانی دارالحکومت کے حساس حکومتی مراکز اور اہم شخصیت کے دفاتر کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے۔
اسرائیلی نشریاتی ادارے کے مطابق، حملوں میں وزارت انٹیلی جنس، صدارتی دفتر، ایرانی قومی سلامتی کونسل، رہبرِ اعلیٰ کی رہائش گاہ کے قریب کے علاقے اور مجلس خبرگان کو ہدف بنایا گیا۔ ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے دفتر پر بھی حملے کا امکان ظاہر کیا گیا، جبکہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان سمیت تمام اعلیٰ قیادت نشانے میں تھی۔تاہم ایک ایرانی عہدیدار نے روئٹرز کو تصدیق کی کہ علی خامنہ ای تہران میں موجود نہیں ہیں اور انہیں ایک محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
اسرائیلی دفاعی ذرائع نے بتایا کہ یہ آپریشن مہینوں سے منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا تھا اور اسے ہفتوں پہلے طے کر لیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ کارروائی امریکہ کے تعاون سے مربوط تھی اور حملوں کا پہلا مرحلہ چار دن تک جاری رہے گا۔ اسرائیلی ذرائع نے اسے گذشتہ موسم گرما میں 12 روزہ جنگ کے تسلسل کے طور پر بیان کیا۔دوسری جانب، ایران نے سخت اور تباہ کن جوابی کارروائی کی تیاری شروع کردی ہے۔ ایرانی عہدیداروں نے کہا کہ اس بار جواب میں کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی اور یہ کارروائی انتہائی مؤثر ہوگی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کی شام ایٹمی مذاکرات میں ایران کے موقف پر شدید عدم اطمینان ظاہر کیا اور واضح کیا کہ وہ ایرانی سرزمین پر کسی بھی افزودگی کو قبول نہیں کریں گے۔اس دوران، امریکہ کے سب سے بڑے طیارہ بردار بحری جہاز جیرالڈ فورڈ اسرائیل پہنچ گیا، جبکہ ابراہام لنکن بحیرہ عرب میں موجود ہے، جس سے خطے میں عسکری کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
یہ واقعہ عالمی سیاست اور مشرق وسطیٰ میں ایران-امریکہ-اسرائیل تعلقات میں شدید کشیدگی کی عکاسی کرتا ہے، اور مستقبل قریب میں خطے میں غیر معمولی عسکری خطرات کی نشاندہی کرتا ہے۔
