امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا ایران میں ایسا صدر دیکھنا چاہتا ہے جو ملک کو جنگ کی طرف نہ لے جائے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ذمہ دارانہ کردار ادا کرے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں کہا کہ موجودہ حالات کے بعد ایران کا مستقبل تبدیل ہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کے بعد ممکن ہے ایران کا نقشہ ویسا نہ رہے جیسا آج نظر آتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ امریکا اس وقت ایران کے ساتھ کسی نئے معاہدے یا سیاسی سمجھوتے کی تلاش میں نہیں ہے۔ امریکی صدر کے مطابق واشنگٹن کی ترجیح یہ ہے کہ خطے میں استحکام قائم ہو اور ایسے اقدامات نہ کیے جائیں جو مزید تنازع کو ہوا دیں۔
ایک سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ اب تک ایسے شواہد سامنے نہیں آئے کہ روس براہ راست ایران کی مدد کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اس معاملے پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
ایران میں ایک ایلیمنٹری اسکول پر حملے سے متعلق سوال پر امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ اس واقعے کے پیچھے خود ایران کا ہاتھ تھا۔ تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ نے برطانیہ پر بھی طنز کرتے ہوئے کہا کہ لندن اب مشرق وسطیٰ میں دو طیارہ بردار بحری جہاز بھیجنے پر غور کر رہا ہے، لیکن امریکا کو اس وقت برطانیہ کی مدد کی ضرورت نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو ایسے اتحادیوں کی ضرورت نہیں جو جنگ جیتنے کے بعد میدان میں آئیں، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ واشنگٹن اس صورتحال کو یاد رکھے گا۔
دوسری جانب کویت میں ہونے والے ایک ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والے چھ امریکی فوجیوں کی میتیں امریکا کے شہر ڈیلاویئر پہنچا دی گئی ہیں۔ اس موقع پر منعقدہ تقریب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور خاتون اول نے بھی شرکت کی اور ہلاک فوجیوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔
مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے اور کئی ممالک خطے میں ممکنہ بڑے تصادم سے بچنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں
Add A Comment