مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی کے دوران ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہونے والی جھڑپوں اور حملوں میں تقریباً 200 امریکی فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔
پاسدارانِ انقلاب کے مطابق بحرین میں قائم امریکی نیول اڈے پر حملے کے نتیجے میں کم از کم 21 امریکی فوجی مارے گئے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں حالیہ حملوں کے جواب میں کی گئیں۔
ایرانی فوجی بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ تہران ریفائنری پر حملے کے بعد اسرائیل کے شہر حیفا میں واقع آئل ریفائنری کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اس کے علاوہ ایک امریکی تیل بردار جہاز پر بھی حملہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایران کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کے وہ اہلکار جو ہتھیار ڈال دیں گے انہیں نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔
اپنے بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ ایران کے حملوں کا نشانہ بننے والے تمام ممالک کے ساتھ اسرائیل کھڑا ہے۔ ان کے مطابق کئی متاثرہ ممالک اسرائیل کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور مشترکہ حکمت عملی پر مشاورت جاری ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکا کے ساتھ مل کر ایران کی فضائی حدود پر تقریباً مکمل کنٹرول حاصل کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی موجودہ حکومت کے خاتمے کے لیے ایک منظم منصوبہ تیار کیا جا چکا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی کے باعث خطے میں صورتحال تیزی سے سنگین ہوتی جا رہی ہے اور عالمی برادری کو خدشہ ہے کہ یہ تنازع مزید وسیع جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
