سعودی عرب نے پیر کے روز ایک سخت بیان جاری کرتے ہوئے ایران کی جانب سے مملکت اور خلیجی تعاون کونسل کے دیگر ممالک کے خلاف مبینہ جارحانہ اقدامات کی شدید مذمت کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی کا سلسلہ جاری رہا تو اس کے سب سے زیادہ منفی نتائج خود ایران کو بھگتنا پڑیں گے۔ سعودی وزارت خارجہ کے مطابق پڑوسی ممالک کے خلاف ایران کے اقدامات کسی صورت قابل قبول نہیں اور مملکت کو اپنے عوام، سرزمین اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ضروری قدم اٹھانے کا مکمل حق حاصل ہے۔
بیان میں خاص طور پر شہری ہوائی اڈوں اور تیل کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے واقعات کی شدید مذمت کی گئی۔ ریاض کے مطابق اس طرح کے حملے بین الاقوامی قوانین اور عالمی معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور یہ خطے کے امن و استحکام کو دانستہ طور پر خطرے میں ڈالنے کی کوشش ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ شہری ہوائی اڈوں اور تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانا دراصل خطے کی سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔
سعودی بیان میں ایرانی صدر مسعود پزیشکیان کے حالیہ بیان کو بھی مسترد کر دیا گیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران کا اپنے پڑوسی ممالک پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ سعودی حکام کے مطابق یہ یقین دہانی حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتی کیونکہ ایرانی حملے صدر کی تقریر کے دوران اور اس کے بعد بھی جاری رہے، جنہیں ریاض نے بے بنیاد جواز قرار دیا۔
سعودی عرب نے ایران کی جانب سے لگائے گئے اس الزام کو بھی سختی سے رد کر دیا جس میں کہا گیا تھا کہ مملکت نے اپنے علاقے سے جنگی طیاروں اور ایندھن بردار طیاروں کو ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے روانہ ہونے کی اجازت دی۔ سعودی حکام کے مطابق یہ دعویٰ مکمل طور پر غلط ہے۔ بیان میں وضاحت کی گئی کہ مذکورہ طیارے دراصل دفاعی فضائی نگرانی پر مامور تھے جن کا مقصد ایرانی میزائلوں اور بغیر پائلٹ طیاروں کے ممکنہ خطرے کے پیش نظر سعودی عرب اور خلیجی ممالک کی فضائی حدود کی حفاظت کرنا تھا۔
بیان کے اختتام پر ریاض نے تہران کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران اپنے موجودہ اقدامات جاری رکھتا ہے تو اسے اپنے فیصلوں کے نتیجے میں سفارتی، معاشی اور تزویراتی سطح پر سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ سعودی حکام کے مطابق خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ایران کشیدگی کو مزید بڑھانے کے بجائے ذمہ دارانہ طرز عمل اختیار کرے۔
