چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے سماعت کے دوران سخت ریمارکس دیے کہ بدقسمتی سے اس حکومت میں بلدیاتی حکومت کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب الیکشن کمیشن میں بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کے معاملے پر سماعت جاری تھی، جس کی سربراہی خود چیف الیکشن کمشنر کر رہے تھے۔
سماعت میں وزیر داخلہ محسن نقوی طبیعت ناساز ہونے کے باعث پیش نہ ہو سکے، تاہم سیکریٹری داخلہ نے شرکت کی۔ چیف الیکشن کمشنر نے وزیر داخلہ کی غیر حاضری کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں سماعت سے استثنا دے دیا۔
الیکشن کمیشن حکام نے سماعت میں کہا کہ ڈرافٹ میں یونین کونسل کے نام شامل کرنا سیکریٹری داخلہ کا اختیار نہیں، بلکہ یہ الیکشن کمیشن کا مینڈیٹ ہے۔ مزید بتایا گیا کہ موجودہ نوٹی فکیشن درست نہیں، کیونکہ ٹاؤن اور نمبر یونین کونسل کی معلومات حاصل کی جانی تھیں، لیکن یو سی کے نام شامل نہیں کیے گئے۔ سیکریٹری داخلہ نے یونین کونسل کی تعداد 125 سے بڑھا کر 130 کر دی اور اضافی وارڈ کی تفصیل فراہم کی، جو غیر ضروری تھی۔
سیکریٹری داخلہ نے توہین کے نوٹس پر معذرت کرتے ہوئے بتایا کہ اسلام آباد بلدیاتی الیکشن کے حوالے سے ڈرافٹ نوٹیفکیشن کابینہ کے سامنے منظوری کے لیے پیش کر دیا گیا ہے اور وزارت قانون سے جواب موصول ہو چکا ہے۔
چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ فروری 2021 سے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات نہیں ہوئے۔ اس دوران مختلف حکومتوں نے مقامی حکومت کے حوالے سے مثبت ردعمل دیا، لیکن موجودہ حکومت میں الیکشن کمیشن اور بلدیاتی حکومت کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، جس پر توہین کا نوٹس جاری کرنا پڑا۔
سماعت کے دوران، چیف الیکشن کمشنر نے سیکریٹری داخلہ کی موجودگی میں نوٹس واپس لے لیا اور اعلان کیا کہ اسلام آباد میں الیکشن کمیشن اور آئی سی ٹی کے اہلکاروں پر مشتمل کمیٹی قائم کی جائے گی، جس کی سربراہی چیف کمشنر یا ڈی سی کریں گے تاکہ معاملات درست سمت میں چل سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد اور پنجاب میں الیکشن کے حوالے سے سنجیدگی سے اقدامات کیے جائیں گے اور اب مزید تاخیر نہیں ہوگی۔ سماعت کے اختتام پر الیکشن کمیشن نے مزید کارروائی کے لیے سماعت ملتوی کر دی، تاکہ تمام معاملات مناسب اور شفاف طریقے سے حل ہو سکیں۔
یہ فیصلہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ الیکشن کمیشن بلدیاتی انتخابات کی بروقت شفاف اور قانونی بنیاد پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کر رہا ہے، تاکہ مقامی حکومت کے نظام میں اعتماد بحال کیا جا سکے اور آئندہ انتخابات میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔
