پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما سینیٹر نہال ہاشمی نے کہا ہے کہ گورنر ہاؤس سے دہشت گردی کی آخری نشانی ختم ہوگئی ہے اور 14 سال بعد ایک نئی سیاسی فضا قائم ہوئی ہے۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نہال ہاشمی نے کہا کہ 14 سال پہلے الطاف حسین نے ایک دہشت گرد تنظیم کا نمائندہ گورنر ہاؤس کراچی بھیجا تھا، تاہم آج مسلم لیگ (ن) کا نمائندہ گورنر ہاؤس پہنچ چکا ہے اور اس کے ساتھ ہی دہشت گردی کے دور کا خاتمہ ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نئے گورنر کی تقرری سے صوبے کو پرامن بنانے میں مدد ملے گی اور وفاقی حکومت سندھ حکومت کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرے گی تاکہ امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔نہال ہاشمی نے کہا کہ آج گورنر ہاؤس میں جمہوریت اور آئین کی پاسداری کی صحیح علامت موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جس دہشت گرد تنظیم نے ماضی میں گورنر ہاؤس میں اپنا نمائندہ بٹھایا تھا، اس کا دور اب ختم ہو چکا ہے۔
انہوں نے اس صورتحال کا ذمہ دار اس وقت کے فوجی حکمران پرویز مشرف قرار دیتے ہوئے کہا کہ آمرانہ دور میں شہر میں دہشت گردی کو فروغ ملا اور قتل و غارت اور ٹارگٹ کلنگ عام ہو گئی تھی۔
مسلم لیگی رہنما نے کہا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کراچی کے لیے بڑی بنیادی تبدیلیاں لے کر آئے۔ ان کے مطابق دہشت گردی کے خاتمے کے لیے شروع کیے گئے آپریشن کے نتیجے میں دہشت گردوں کو شہر اور ریاستی اداروں سے دور ہونے پر مجبور کیا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ وزیر اعظم شہباز شریف نے گورنر ہاؤس میں ایسے شخص کو تعینات کیا ہے جو انصاف کے عہدے پر بھی فائز رہا ہے اور آئین و قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں نہال ہاشمی نے کہا کہ این آر او نواز شریف نے نہیں کیا، بلکہ این آر او کرنے والوں سے پوچھا جانا چاہیے کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا۔
