مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے تازہ حملوں کے بعد خطے میں جنگ کے پھیلنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے ایران کے مختلف مقامات پر مزید فضائی حملے کیے جس کے جواب میں ایران نے بھی بھرپور ردعمل دیتے ہوئے اسرائیل پر میزائلوں کی بارش کر دی۔ ایرانی حملوں کے نتیجے میں 200 سے زائد اسرائیلی زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
ایران کی جانب سے میزائلوں کی یلغار کے بعد تل ابیب سمیت کئی بڑے اسرائیلی شہروں میں خطرے کے سائرن مسلسل بجتے رہے جبکہ شہریوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات اور بنکروں میں منتقل ہونے کی ہدایات دی گئیں۔ادھر امریکا نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران کے 58 بحری جہاز تباہ کر دیے ہیں جبکہ سمندر میں بچھائی گئی 31 بارودی سرنگوں کو بھی ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائیاں خطے میں بحری راستوں کو محفوظ بنانے کے لیے کی گئیں۔
دوسری جانب ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے امریکی ایئرکرافٹ کیریئر یو ایس ایس ابراہم لنکن کو میزائل حملے میں نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں اس جنگی جہاز کو شدید نقصان پہنچا۔علاوہ ازیں خطے کے دیگر علاقوں میں بھی حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ دبئی میں امریکی فوجی اہلکاروں کی رہائش گاہ پر ڈرون حملہ کیا گیا جبکہ عراق کے شمالی علاقے مخمور میں فرانسیسی فوجی اڈے پر ڈرون حملے کے نتیجے میں ایک فوجی ہلاک اور کئی دیگر زخمی ہو گئے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی یہ کشیدگی پورے مشرقِ وسطیٰ کو ایک بڑے فوجی تصادم کی طرف دھکیل سکتی ہے جبکہ عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
