واشنگٹن / سیئول: امریکا نے جنوبی کوریا میں نصب جدید میزائل دفاعی نظام تھاڈ (THAAD) کو اسرائیل منتقل کر دیا ہے، جس کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں سکیورٹی صورتحال مزید اہمیت اختیار کر گئی ہے۔
جنوبی کوریا کے سرکاری میڈیا کی جانب سے اس منتقلی کی ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے جس میں امریکی فوجی ٹرانسپورٹ طیاروں کو دفاعی سامان منتقل کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی فوج کے بھاری بھرکم ٹرانسپورٹ طیاروں نے جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیئول کے جنوب میں واقع شہر پیونگٹائیک میں قائم امریکی اوسان ائیر بیس سے یہ دفاعی سامان مشرقِ وسطیٰ منتقل کیا۔
رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس منتقلی کے دوران متعدد امریکی فوجیوں کو بھی جنوبی کوریا سے مشرقِ وسطیٰ بھیجا گیا ہے تاکہ نئے مقام پر دفاعی نظام کی تنصیب اور آپریشنل سرگرمیوں کو یقینی بنایا جا سکے۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق تھاڈ میزائل دفاعی نظام اصل میں جنوبی کوریا میں شمالی کوریا کے بیلسٹک میزائل خطرے سے بچاؤ کے لیے نصب کیا گیا تھا، تاہم موجودہ علاقائی کشیدگی کے پیشِ نظر اسے اسرائیل منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق تھاڈ سسٹم ایک جدید اینٹی بیلسٹک میزائل ڈیفنس نظام ہے جو فضا میں آنے والے میزائلوں کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا کا یہ اقدام ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اسرائیل کے دفاع کو مضبوط بنانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے، جس کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں فوجی سرگرمیوں میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے
