امریکہ نے ایران کی اعلیٰ قیادت کے خلاف ایک بڑا اور غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے ایران کے نئے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای سمیت کئی اہم عہدیداروں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر ایک کروڑ ڈالر (10 ملین ڈالر) انعام دینے کا اعلان کر دیا ہے۔
امریکی محکمۂ خارجہ نے جمعہ کو جاری بیان میں کہا کہ یہ انعام ایسے افراد کے لیے ہے جو ایران کی اعلیٰ سکیورٹی قیادت اور سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی سے وابستہ شخصیات کے بارے میں قابلِ اعتماد معلومات فراہم کریں۔ واشنگٹن کے مطابق یہ تنظیم دنیا بھر میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کی منصوبہ بندی، مالی معاونت اور عملدرآمد میں ملوث رہی ہے۔
محکمۂ خارجہ کی جانب سے جاری فہرست میں 10 اہم ایرانی شخصیات کے نام شامل ہیں جن کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر انعام دیا جائے گا۔ ان میں ایران کے وزیرِ داخلہ اسکندر مومنی اور وزیرِ انٹیلی جنس و سکیورٹی اسماعیل خطیب بھی شامل ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ افراد ایران کے سکیورٹی اور انٹیلی جنس نظام میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں اور سپاہ پاسداران کے مختلف شعبوں کی قیادت اور نگرانی کرتے ہیں۔
امریکی محکمۂ خارجہ نے کہا ہے کہ معلومات فراہم کرنے والے افراد اپنی شناخت خفیہ رکھتے ہوئے محفوظ ذرائع کے ذریعے رابطہ کر سکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے لوگوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ محفوظ پیغام رسانی ایپس جیسے Signal اور Tor Browser کے ذریعے معلومات فراہم کریں تاکہ ان کی شناخت محفوظ رہے۔
بیان میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ معلومات دینے والوں کو نہ صرف مالی انعام دیا جائے گا بلکہ اگر ضرورت پڑی تو انہیں بیرونِ ملک منتقل کرنے اور نئی زندگی شروع کرنے میں بھی مدد فراہم کی جا سکتی ہے۔ یہ اقدام امریکی محکمۂ خارجہ کے خصوصی پروگرام Rewards for Justice کے تحت کیا گیا ہے، جو عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف معلومات فراہم کرنے والوں کو نقد انعام دیتا ہے۔
بیان کے مطابق ایران کی موجودہ قیادت میں تبدیلی اس وقت آئی جب سابق ایرانی رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای 28 فروری کو ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی کے دوران ہونے والی شدید بمباری میں ہلاک ہو گئے تھے۔ اس واقعے کے بعد ایران کی قیادت میں نمایاں تبدیلیاں سامنے آئیں اور خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کی سکیورٹی قیادت کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنا عالمی سلامتی کے لیے اہم ہے، کیونکہ ان کے بقول سپاہ پاسداران اور اس سے وابستہ نیٹ ورکس دنیا کے مختلف حصوں میں اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ کا یہ اعلان نہ صرف ایران پر دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے بلکہ یہ خطے میں جاری کشیدگی اور جغرافیائی سیاست میں ایک نئے مرحلے کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔
