ملک میں بڑھتی ہوئی معاشی مشکلات اور مہنگائی کے پیش نظر حکومت نے اخراجات میں کمی اور کفایت شعاری کو فروغ دینے کے لیے متعدد اقدامات پر غور شروع کر دیا ہے۔ اسی سلسلے میں وزیرِاعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں حکومتی اخراجات میں کمی، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے اثرات اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے طریقوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں حکومتی سطح پر کیے گئے بچت اقدامات اور ان کے ممکنہ نتائج کا بھی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں وفاقی حکومت کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے اہم وزرا اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ شرکا میں وزیرِ اطلاعات *عطا اللہ تارڑ، وزیرِ خزانہ **محمد اورنگزیب، وزیرِ پیٹرولیم *علی پرویز ملک اور وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی شامل تھے۔ اس کے علاوہ وفاقی ادارۂ محاصل کے سربراہ اور دیگر متعلقہ محکموں کے سینئر افسران نے بھی اجلاس میں شرکت کی اور مختلف امور پر تفصیلی بریفنگ دی۔
اجلاس کے دوران حکام نے وزیرِاعظم کو آگاہ کیا کہ حکومت نے حالیہ عرصے میں سرکاری اخراجات کو کم کرنے کے لیے کئی عملی اقدامات شروع کیے ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد قومی خزانے پر پڑنے والے مالی دباؤ کو کم کرنا اور بچنے والی رقوم کو براہِ راست عوامی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کرنا ہے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ حکومتی سطح پر کیے گئے تمام کفایت شعاری اقدامات سے حاصل ہونے والی بچت کو عوامی ریلیف کے منصوبوں کے لیے مختص کیا جائے گا۔
وزیرِاعظم شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ حکومت کی اولین ترجیح عام شہریوں کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ معاشی حالات میں یہ ضروری ہے کہ حکومت خود اپنے اخراجات میں کمی کرے تاکہ بچنے والی رقم کو عوامی مسائل کے حل کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے اختیار کیے گئے تمام کفایت شعاری اقدامات کا اصل مقصد یہی ہے کہ عوام کو براہِ راست فائدہ پہنچایا جائے۔
اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ سرکاری اداروں اور حکومت کے زیرِ سرپرستی خود مختار تنظیموں میں کام کرنے والے ملازمین کی تنخواہوں میں مخصوص حد تک کمی کی جائے گی۔ اس فیصلے کے تحت مختلف درجات کے ملازمین کی تنخواہوں سے پانچ فیصد سے لے کر تیس فیصد تک مرحلہ وار کٹوتی کی جائے گی۔ حکام کے مطابق یہ کٹوتی اس انداز سے کی جائے گی کہ اداروں کے انتظامی معاملات متاثر نہ ہوں اور ساتھ ہی قومی خزانے کے لیے خاطر خواہ بچت بھی حاصل ہو سکے۔
اجلاس میں اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ ملازمین کی تنخواہوں سے کی جانے والی یہ کٹوتی براہِ راست عوامی ریلیف کے اقدامات میں استعمال کی جائے گی۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ جب ریاست خود اپنے اخراجات کم کرے گی تو اس کے نتیجے میں عوام کے لیے سہولت پیدا کرنے کے مواقع بھی بڑھیں گے۔
اس کے علاوہ ایک اور اہم فیصلہ یہ کیا گیا کہ سرکاری کارپوریشنوں اور دیگر اداروں کے بورڈ اجلاسوں میں حکومت کی نمائندگی کرنے والے ارکان کو اجلاس میں شرکت کے عوض ملنے والی فیس نہیں دی جائے گی۔ اس فیس کو بھی حکومتی بچت میں شامل کیا جائے گا تاکہ مجموعی طور پر اخراجات میں مزید کمی لائی جا سکے۔
اجلاس کے دوران یہ بھی واضح کیا گیا کہ بعض اہم ریاستی اداروں کو اس کفایت شعاری پالیسی سے مستثنیٰ رکھا جائے گا۔ اعلامیے کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے اور وفاقی ادارۂ محاصل اپنے معمول کے طریقۂ کار کے مطابق کام جاری رکھیں گے اور ان پر ہفتے میں چار دن کام کرنے کی پالیسی کا اطلاق نہیں ہوگا۔ اس فیصلے کا مقصد یہ ہے کہ ان حساس اداروں کی کارکردگی متاثر نہ ہو اور وہ اپنی ذمہ داریاں پہلے کی طرح مؤثر انداز میں ادا کرتے رہیں۔
وزیرِاعظم نے اجلاس میں ایک اور ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں قائم پاکستانی سفارت خانوں کو ہدایت دی جائے کہ وہ تئیس مارچ کے قومی دن کی تقریبات نہایت سادگی سے منعقد کریں۔ انہوں نے زور دیا کہ ان تقریبات پر غیر ضروری اخراجات سے گریز کیا جائے اور سادگی کو ترجیح دی جائے تاکہ کفایت شعاری کی پالیسی پر مکمل عملدرآمد ممکن ہو سکے۔
وزیرِاعظم شہباز شریف نے سرکاری نمائندوں اور اعلیٰ حکام کے بیرونِ ملک دوروں کے حوالے سے بھی واضح ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی وزرا، وزرائے مملکت، معاونینِ خصوصی اور سرکاری افسران کے غیر ضروری بیرونی دوروں پر مکمل پابندی عائد رہے گی۔ ان کے مطابق ایسے دورے صرف اسی صورت میں کیے جائیں گے جب وہ انتہائی ضروری ہوں اور ملکی مفاد میں ناگزیر سمجھے جائیں۔
انہوں نے مزید ہدایت کی کہ کفایت شعاری سے متعلق جاری کردہ تمام احکامات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ اس مقصد کے لیے مختلف وزارتوں کے سیکریٹریوں کو ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ اپنے اپنے محکموں میں ان اقدامات کی نگرانی کریں اور ان کے نتائج کا باقاعدگی سے جائزہ لیں۔
اجلاس میں یہ بھی طے کیا گیا کہ متعلقہ سیکریٹری روزانہ کی بنیاد پر ایک جائزہ کمیٹی کو اپنی رپورٹ پیش کریں گے تاکہ کفایت شعاری کے اقدامات کی پیش رفت کا مسلسل جائزہ لیا جا سکے۔ اس عمل کا مقصد یہ ہے کہ حکومت کو بروقت معلومات حاصل ہوتی رہیں اور اگر کسی مرحلے پر اصلاح کی ضرورت ہو تو فوری اقدامات کیے جا سکیں۔
اس اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کا مقصد حکومتی اخراجات میں نمایاں کمی لانا اور بچائی گئی رقوم کو براہِ راست عوامی فلاح کے لیے استعمال کرنا ہے۔ وزیرِاعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت عوام کو معاشی مشکلات سے نکالنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گی اور اس مقصد کے لیے ریاستی وسائل کو زیادہ مؤثر اور ذمہ دارانہ انداز میں استعمال کیا جائے گا۔
