واشنگٹن:جی 7ممالک نے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے دنیا بھر میں عام شہریوں اور سویلین ڈھانچے پر کیے جانے والے حملوں کی شدید مذمت کی ہے اور ان کارروائیوں کو فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ عام شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔ جی 7 ممالک نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے اقدامات بین الاقوامی انسانی قوانین اور عالمی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں، جنہیں کسی بھی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں نہ صرف انسانی جانوں کا تحفظ ضروری ہے بلکہ عالمی معیشت کو درپیش خطرات سے نمٹنا بھی انتہائی اہم ہے۔ اسی لیے جی 7 ممالک نے ایسے اقدامات کی حمایت پر زور دیا ہے جو عالمی معاشی جھٹکوں کے اثرات کو کم کر سکیں اور بین الاقوامی تجارت اور توانائی کی ترسیل کو متاثر ہونے سے بچایا جا سکے۔
مزید برآں، اعلامیے میں آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کو برقرار رکھنے کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔ جی 7 رہنماؤں کا کہنا تھا کہ یہ اہم سمندری گزرگاہ عالمی تجارت اور توانائی کی محفوظ ترسیل کیلئے نہایت اہم حیثیت رکھتی ہے، اس لیے یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت کیلئے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
جی 7 ممالک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ عالمی برادری کے ساتھ مل کر کشیدہ حالات کو کم کرنے، امن و استحکام کو فروغ دینے اور انسانی نقصان کو کم سے کم کرنے کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق جی 7 کا یہ اعلامیہ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر ایک اہم سفارتی پیغام ہے، جس کا مقصد تنازعات کو محدود کرنا اور دنیا کو بڑے بحران سے بچانا ہے۔
