پنجاب حکومت نے صوبے بھر کے تعلیمی ادارے یکم اپریل سے دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس سے طلبہ، اساتذہ اور والدین میں پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ تمام اسکول، کالجز اور یونیورسٹیاں باقاعدہ طور پر ہفتے میں پانچ دن کھلی رہیں گی اور تعلیمی سرگرمیاں مکمل طور پر معمول کے مطابق بحال کر دی جائیں گی۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے اس نوٹیفکیشن کو سختی سے مسترد کر دیا جس میں تعلیمی اداروں کے صرف چار دن کھلے رہنے کا دعویٰ کیا گیا تھا، اور اسے مکمل طور پر جعلی اور گمراہ کن قرار دیا۔ وزیر تعلیم نے واضح کیا کہ حکومت نے ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا اور نہ ہی تعلیمی نظام کو محدود کرنے کا کوئی ارادہ ہے۔
رانا سکندر حیات نے مزید زور دیتے ہوئے کہا کہ اس بار تعلیمی نظام مکمل طور پر فزیکل ہوگا، یعنی طلبہ کو لازمی طور پر اداروں میں حاضر ہو کر تعلیم حاصل کرنا ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہائبرڈ یا آن لائن کلاسز کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں، کیونکہ حکومت چاہتی ہے کہ طلبہ براہِ راست کلاس روم ماحول میں سیکھنے کے عمل سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تعلیمی تسلسل کو برقرار رکھنے اور طلبہ کی تعلیمی کارکردگی کو بہتر بنانے کیلئے عملی اقدامات کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی۔ ماہرین تعلیم کے مطابق فزیکل کلاسز کی بحالی سے نہ صرف تعلیمی معیار بہتر ہوگا بلکہ طلبہ کی سماجی اور ذہنی نشوونما پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
