شہباز شریف نے ایران تنازع کے خاتمے کیلئے اجتماعی کوششوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ جاری جنگ نہ صرف ایران بلکہ دیگر برادر مسلم ممالک میں انسانی جانوں، معیشت اور املاک کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کی بگڑتی صورتحال کے پیش نظر اسلام آباد میں پاکستان کی میزبانی میں سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کا اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، جسے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
وزیراعظم نے مہمان وزرائے خارجہ سے ملاقات کے بعد اپنے بیان میں کہا کہ فوری جنگ بندی کیلئے مشترکہ اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ پاکستان امریکا اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے میں مثبت کردار ادا کرے گا۔
وزیراعظم نے خطے میں امن و استحکام کیلئے سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان ممالک کی سفارتی کوششیں نہایت اہم ہیں۔
اس سے قبل شہزادہ فیصل بن فرحان نے وزیراعظم سے ملاقات کی، جس میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا اور موجودہ بحران میں سعودی قیادت کے تحمل کو سراہا۔ وزیراعظم نے یقین دہانی کرائی کہ پاکستان ہر مشکل وقت میں سعودی عرب کے ساتھ کھڑا رہے گا۔
اجلاس میں شرکت کیلئے آنے والے ہاکان فدان اور بدر عبدالعاطی سمیت دیگر وزرائے خارجہ نے موجودہ علاقائی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور جنگ کے جلد اور مستقل خاتمے کیلئے ممکنہ راستوں پر غور کیا۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا کہ جاری تنازع خطے میں انسانی جانوں اور روزگار پر تباہ کن اثرات مرتب کر رہا ہے، اور اس بات پر اتفاق کیا کہ یہ جنگ کسی کے مفاد میں نہیں بلکہ اس کا نتیجہ صرف تباہی اور نقصان کی صورت میں نکلے گا۔
اسحاق ڈار نے اجلاس کے دوران مہمان ممالک کو ممکنہ امریکا۔ایران مذاکرات کے امکانات سے آگاہ کیا، جس پر تمام ممالک نے اس اقدام کی مکمل حمایت کا اظہار کیا۔
اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ کشیدگی میں کمی، صورتحال کو قابو میں رکھنے اور فریقین کے درمیان بامعنی مذاکرات کیلئے سازگار ماحول پیدا کیا جائے گا۔ وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسائل کا حل صرف مکالمہ اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے، اور اقوام متحدہ کے اصولوں کے مطابق ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام ضروری ہے۔
اجلاس کے بعد سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ اپنے اپنے ممالک کو روانہ ہو گئے، جبکہ پاکستانی حکام نے انہیں الوداع کیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ سفارتی سرگرمیاں ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب ایران پر حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ وسیع علاقائی تصادم کی شکل اختیار کر چکی ہے، اور اس کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہو رہے ہیں۔
