شمالی کوریا کے رہنما کِیم جونگ اون نے حالیہ دنوں میں اپنی فوجی تیاریوں اور دفاعی صلاحیتوں کا ایک جامع جائزہ لیا، جس میں نہ صرف جدید ہتھیاروں کے تجربات شامل تھے بلکہ فوجیوں کی جسمانی مہارت اور جنگی تربیت کے غیر معمولی مظاہرے بھی پیش کیے گئے۔ یہ سرگرمیاں ایک ایسے وقت میں سامنے آئیں جب پیانگ یانگ اپنی عسکری طاقت کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہا ہے۔
اس دورے کا ایک اہم پہلو خصوصی آپریشن فورسز کے تربیتی مرکز کا معائنہ تھا، جہاں کِیم جونگ اون نے براہِ راست جنگی حالات سے نمٹنے کے لیے فوجیوں کی تیاریوں کا قریب سے مشاہدہ کیا۔ اس دوران انہیں جدید اسلحے کے استعمال اور مختلف جنگی حکمت عملیوں کے عملی مظاہرے بھی دکھائے گئے۔ ان سرگرمیوں سے واضح تھا کہ شمالی کوریا اپنی افواج کو نہ صرف ہتھیاروں کے لحاظ سے بلکہ جسمانی اور ذہنی طور پر بھی مضبوط بنانے پر توجہ دے رہا ہے۔
اسی سلسلے میں جدید ٹیکنالوجی سے لیس ایک نئے مین بیٹل ٹینک کے تجربات بھی کیے گئے، جن کی نگرانی خود کِیم جونگ اون نے کی۔ سرکاری ذرائع کے مطابق یہ ٹینک اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ یہ مختلف اقسام کے اینٹی ٹینک ہتھیاروں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو اسے میدانِ جنگ میں ایک اہم اضافہ بناتا ہے۔ یہ پیش رفت ملک کے اس عزم کو ظاہر کرتی ہے کہ وہ اپنی بری فوج کی صلاحیتوں کو جدید خطوط پر استوار کرنا چاہتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ، تزویراتی سطح پر بھی اہم پیش رفت سامنے آئی جب ٹھوس ایندھن سے چلنے والے راکٹ انجن کے نئے تجربات کیے گئے۔ کِیم جونگ اون نے ان تجربات میں خود شرکت کی، جہاں کاربن فائبر مواد سے تیار کردہ ہائی تھرسٹ انجن کا زمینی ٹیسٹ کیا گیا۔ بتایا گیا کہ اس انجن کی زیادہ سے زیادہ طاقت 2500 کلو نیوٹن تک پہنچتی ہے، جو اسے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل سسٹمز کے لیے نہایت مؤثر بناتی ہے۔ یہ منصوبہ شمالی کوریا کے اس پانچ سالہ پروگرام کا حصہ ہے جس کا مقصد اس کی جارحانہ عسکری صلاحیتوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔
تاہم، اس دورے کا سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے والا حصہ وہ حیران کن مظاہرے تھے جن میں فوجیوں نے اپنی غیر معمولی جسمانی طاقت اور برداشت کا عملی ثبوت پیش کیا۔ ان مظاہروں میں شامل بعض مناظر اتنے غیر معمولی تھے کہ دیکھنے والوں کے لیے حیرت کا باعث بنے۔ مثال کے طور پر، کچھ فوجیوں نے اپنے ساتھیوں کے سروں پر بھاری کنکریٹ سلیب رکھ کر انہیں توڑنے کا مظاہرہ کیا۔ اس کے بعد انہوں نے مارشل آرٹس کی تکنیکوں کا مظاہرہ کیا، جس کا اختتام ایک شاندار قلابازی پر ہوا۔
ایک اور منظر میں ایک فوجی نے ایک مضبوط لکڑی کی چھڑی سے اپنے ساتھی پر وار کیا، جس کے نتیجے میں وہ چھڑی ہی ٹوٹ گئی۔ یہ مظاہرہ فوجیوں کی جسمانی قوت اور برداشت کو اجاگر کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔ اسی طرح ایک اور مرحلے میں ایک فوجی کے پیٹ پر کنکریٹ کے بلاکس رکھے گئے اور دوسرے فوجی نے بڑے ہتھوڑے سے انہیں توڑ دیا، جس نے حاضرین کو حیرت میں ڈال دیا۔
کچھ مناظر میں فوجیوں نے کدالیں پھینکنے اور ایک دوسرے کے جسم پر ہتھوڑے مارنے جیسی مشقیں بھی انجام دیں، جو ان کی سخت تربیت اور جسمانی مضبوطی کو ظاہر کرتی تھیں۔ یہ تمام سرگرمیاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ شمالی کوریا اپنی افواج کو نہایت سخت حالات کے لیے تیار کر رہا ہے، جہاں جسمانی برداشت اور ذہنی مضبوطی دونوں یکساں اہمیت رکھتے ہیں۔
ان مظاہروں کے دوران کِیم جونگ اون کو ایک نمایاں مقام پر بیٹھ کر تمام سرگرمیوں کا جائزہ لیتے ہوئے دیکھا گیا۔ وہ ایک بڑی لکڑی کی میز کے پیچھے سفید کرسی پر موجود تھے اور بظاہر ان مظاہروں سے خاصے محظوظ ہو رہے تھے۔ کیمرہ بار بار ان کی جانب متوجہ ہوتا رہا، جہاں وہ مسکراتے ہوئے، تالیاں بجاتے ہوئے اور اپنے تاثرات کا اظہار کرتے دکھائی دیے۔ ان کے اردگرد موجود فوجی افسران بھی اس موقع پر خوشگوار موڈ میں نظر آئے اور ان کے تبصروں پر ردعمل دیتے رہے۔
شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ تمام سرگرمیاں ملک کی دفاعی حکمت عملی کا حصہ ہیں، جس کا مقصد نہ صرف اپنی فوجی طاقت کا مظاہرہ کرنا ہے بلکہ اسے مزید بہتر بنانا بھی ہے۔ ان اقدامات سے یہ پیغام بھی دیا جا رہا ہے کہ ملک اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن حد تک تیار ہے۔
اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ شمالی کوریا اپنی دفاعی پالیسی کو ایک ہمہ جہت انداز میں آگے بڑھا رہا ہے، جہاں ہتھیاروں کی ترقی کے ساتھ ساتھ فوجیوں کی جسمانی اور ذہنی تربیت پر بھی بھرپور توجہ دی جا رہی ہے۔
