یورپ میں حالیہ دنوں کے دوران ایسی پیش رفت سامنے آئی ہے جس نے عالمی سیاسی اور عسکری ماحول میں ایک نئی سنجیدگی پیدا کر دی ہے۔ بڑی طاقتوں کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں بعض یورپی ممالک نے اپنی سرزمین اور وسائل کے استعمال کے حوالے سے محتاط اور خودمختار مؤقف اختیار کرنا شروع کر دیا ہے۔
اسی سلسلے میں اسپین نے ایک واضح اور دوٹوک فیصلہ کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ اپنی فضائی حدود اور فوجی اڈوں کو کسی بھی ایسی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا جو ایران کے خلاف ہو۔ ہسپانوی وزیرِ دفاع مارگریٹا روبلیس نے اپنے بیان میں اس بات پر زور دیا کہ ان کا ملک اس معاملے پر ابتدا ہی سے اپنی پالیسی واضح کر چکا ہے اور کسی قسم کی گنجائش باقی نہیں چھوڑی گئی۔
ان کے مطابق اسپین نے امریکہ کو پہلے ہی یہ پیغام دے دیا تھا کہ اس کے دو اہم فوجی اڈے کسی بھی جنگی سرگرمی کے لیے دستیاب نہیں ہوں گے۔ اس اعلان کے بعد یہ تاثر مزید مضبوط ہوا کہ یورپی ممالک اس معاملے میں براہِ راست شمولیت سے گریز کر رہے ہیں۔
دوسری جانب اٹلی میں بھی اسی نوعیت کا ایک واقعہ پیش آیا، جہاں سسلی کے ایک اہم فضائی اڈے پر امریکی فوجی طیاروں کو رکنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اطلاعات کے مطابق چند بمبار طیاروں کے لیے پرواز کا ایک منصوبہ جمع کرایا گیا تھا جس میں یہ تجویز دی گئی تھی کہ وہ مشرقِ وسطیٰ جاتے ہوئے اس اڈے پر قیام کریں گے۔
تاہم یہ منصوبہ متعلقہ اطالوی حکام سے پیشگی مشاورت یا منظوری کے بغیر پیش کیا گیا، جسے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی تصور کیا گیا۔ اسی بنیاد پر اطالوی حکام نے اس درخواست کو مسترد کر دیا اور واضح کیا کہ کسی بھی غیر منظور شدہ عسکری سرگرمی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب طیارے پہلے ہی اپنے سفر پر روانہ ہو چکے تھے، جس سے معاملے کی حساسیت مزید بڑھ گئی۔ مقامی ذرائع کے مطابق اس واقعے نے نہ صرف سفارتی سطح پر سوالات اٹھائے بلکہ اتحادی ممالک کے درمیان رابطہ کاری کے طریقہ کار پر بھی بحث چھیڑ دی۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ دونوں واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یورپی ممالک اب اپنی سرزمین کو کسی بھی ممکنہ تنازع میں استعمال ہونے سے روکنے کے لیے زیادہ محتاط ہو گئے ہیں۔ وہ ایک طرف اپنے بین الاقوامی تعلقات کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں، تو دوسری جانب کسی بھی ایسے عمل سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں جو انہیں براہِ راست کسی جنگی صورتحال کا حصہ بنا دے۔
یہ پیش رفت مستقبل میں عالمی طاقتوں کے درمیان تعلقات اور عسکری حکمتِ عملی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے، کیونکہ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اتحادی ہونے کے باوجود ہر ملک اپنی خودمختاری اور قومی مفاد کو اولین ترجیح دے رہا ہے۔
